کونسل کی گریجویٹ نشست کیلئے سیاسی جماعتوں کو رائے دہندوں کی تلاش

   

کالجس پر تائید کیلئے دباؤ، لکچررس و ملازمین کو تائید کی صورت میں مکمل تنخواہ کا لالچ
حیدرآباد۔ حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل قانون ساز کونسل کی گریجویٹ نشست کیلئے سیاسی جماعتوں نے ابھی سے اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اگرچہ اعلامیہ جاری نہیں کیا لیکن گریجویٹ رائے دہندوں کو راغب کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ تینوں اضلاع میں موجود کالجس کو سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنے کی فراق میں ہیں کیونکہ کالجس کا اسٹاف رائے دہندوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ کالجس کے انتظامیہ کو سیاسی جماعتیں اپنے حق میں رائے دہی کیلئے راغب کررہی ہیں۔ زیادہ تر کالجس کا انتظامیہ کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے قربت رکھتا ہے لہذا اسٹاف کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ووٹر آئی ڈی اور آدھار کارڈ کالج میں جمع کریں تاکہ گریجویٹ حلقہ کے رائے دہندوں میں نام شامل کیا جاسکے۔شہر کے مضافاتی علاقوں میں واقع انجینئرنگ کالجس میں سیاسی جماعتوں کو کئی ہزار گریجویٹ رائے دہندے باآسانی دستیاب ہوسکتے ہیں جو کسی بھی امیدوار کی کامیابی میں کلیدی رول ادا کرسکتے ہیں۔ بعض کالجس پر برسراقتدار پارٹی کے قائدین اثر انداز ہوتے ہوئے پارٹی کے حق میں ووٹ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض کالجس میں شرط رکھی گئی ہے کہ اگر مخصوص امیدوار کے حق میں ووٹ دیا جائے تو ملازمین بشمول لکچررس کو مکمل تنخواہ ادا کی جائے گی۔ کوویڈ 19 کے پیش نظر کالجس نے اسٹاف کی تنخواہوں میں کٹوتی کردی ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ سال مارچ میں گریجویٹ حلقہ کے انتخابات ہوں گے۔ کئی کالجس نے اپنے اسٹاف کے ناموں کے اندراج کا فیصلہ کیا ہے تاکہ برسر اقتدار پارٹی کو فائدہ ہو۔ بعض کالجس نے 50 فیصد تنخواہ کا پیشکش کیا جہاں فی الوقت صرف 25 فیصد تنخواہ ادا کی جارہی ہے۔ تلنگانہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوشنس ایمپلائز اسوسی ایشن نے توثیق کی ہے کہ کونسل کی نشست پر کامیابی کیلئے سیاسی پارٹیاں تعلیمی اداروں سے رجوع ہورہی ہیں۔ اسوسی ایشن نے ووٹ کو تنخواہ سے مربوط کرنے کی مخالفت کی ہے۔ ریاست میں گریجویٹ حلقہ کی 2 نشستوں کیلئے انتخابی اعلامیہ اکٹوبر میں جاری ہوسکتا ہے۔