پادری، دوکاندار، بزنسمین، فارما کمپنی ملازمین بلیک مارکٹنگ کرنے والے بن گئے
حیدرآباد : ایک فارماسسٹ، ایک دوکاندار، ایک پادری، ایک ڈرائیور، لیاب ٹیکنیشین، اسٹاف نرس، ایک رئیلٹر اور فارما کمپنی کے ملازمین ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے کوویڈ وباء کے درمیان بلیک مارکٹنگ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوویڈ میں کئی لوگوں کا انسانی جذبہ بھی سامنے آیا ہے۔ ادویات اور میڈیکل ڈیوائسیس کی بلیک مارکٹنگ سے ہیلت کیئر سسٹم پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں آکسیجن، اینٹی وائرل انجیکشن وغیرہ کے لئے دیوانہ وار کالس کئے جارہے ہیں۔ پیسوں کی ہوس اور لالچ نے جلد پیسہ کمانے کی کوشش میں عام آدمی کو دھوکہ باز بنادیا ہے۔ کھمم میں ڈسٹرکٹ ہاسپٹل کے قریب بلیک مارکٹنگ کا ایک واقعہ سامنے آیا۔ ایک اسٹاف نرس اور ایک آؤٹ سورسڈ نرس کو باہر کے لوگوں کو 38,000 روپئے میں ریمیڈیسور انجیکشنس کے چھ Vials فروخت کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ نہ صرف میڈیکل پس منظر یا فارماسیز کے افراد بلکہ باہر کے لوگ بھی اس صورتحال سے خوب فائدہ اٹھاتے پائے گئے۔ پولیس کی جانب سے زندگی بچانے والی ادویات، ریمیڈیسیور انجیکشن، آکسیجن سلینڈرس کی بلیک مارکٹنگ کرنے والوں پر دھاوے کئے جارہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ ایک دھاوے میں کشائی گوڑہ پولیس نے ریمیڈیسور انجیکشن کی بلیک مارکٹنگ میں ملوث ایک ٹولی کے دو ارکان کو گرفتار کیا۔