کوکہ پیٹ اراضیات کی فروخت میں چیف منسٹر کے رشتہ دار اور قریبی افراد ملوث

   

Ferty9 Clinic

بے قاعدگیوں کا ٹھوس ثبوت موجود، احتجاج جاری رہے گا : ریونت ریڈی
حیدرآباد۔19 ۔جولائی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کوکہ پیٹ کی اراضیات کی فروخت میں ایک ہزار کروڑ کی بے قاعدگیوں کا الزام دہرایا اور کہا کہ الزامات کے حق میں ان کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہے۔ اگر ایک بھی الزام حکومت غلط ثابت کرتی ہے تو وہ مقدمات کا سامنا کرنے تیار ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں کوکہ پیٹ میں 260 دلت خاندانوں کو اراضی الاٹ کی گئی تھی لیکن کے سی آر حکومت نے جبراً اراضی حاصل کرتے ہوئے اسے فروخت کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آکشن کے نام پر حکومت سے قربت رکھنے والے اداروں کو اراضی حوالے کی گئی ۔ اس معاملہ میں کے ٹی آر اور سنتوش کمار ملوث ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے ٹی آر اور سنتوش ایک لاکھ کروڑ قرض دینے کے موقف میں ہیں اور ریاست میں اراضیات کے معاملات میں یہ دونوں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سدی پیٹ کلکٹر لینڈ مافیا کی طرح رول ادا کر رہے ہیں اور ان کی کمپنیوں کو اراضی الاٹ کی گئی ۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ کلکٹر سدی پیٹ نے چیف منسٹر کے پیر چھو کر دستور کی توہین کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں ٹی آر ایس نے اراضیات کے فروخت کی مخالفت کی تھی لیکن اب کے سی آر کے رشتہ داروں اور قریبی افراد کو اراضیات الاٹ کی جارہی ہیں۔ ریونت ریڈی نے کئی دستاویزی ثبوت پیش کئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کلکٹر سدی پیٹ کی کمپنیوں نے اراضی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 ء انتخابات کے حلفنامہ میں کے ٹی آر نے 7 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کا ذکر کیا تھا لیکن گزشتہ چند برسوں میں کے ٹی آر کے اثاثہ جات میں بھاری اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے اراضیات کی فروخت میں سومیش کمار ، اروند کمار اور انسپکٹر جنرل پولیس پربھاکر راؤ کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی اراضی کی فروخت میں دھاندلیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔