نئی دہلی۔26 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دنیا کے نمبر ایک بیٹسمین اورہندوستانی کپتان ویراٹ کوہلی کی نیوزی لینڈ کے دورے میں بیٹنگ میں ناکامی ٹیم کو بھاری پڑ رہی ہے۔ کوراٹ نیوزی لینڈ کے دورے میں اپنے معیارکے کھیل سے کوسوں دورہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹیم کو ونڈے سیریز میں 0-3 سے اور ویلنگٹن میں پہلے ٹسٹ میں 10 وکٹ کی شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان نے ٹی20 سیریز 5-0 کے ریکارڈ فرق سے جیتی تھی لیکن اس وقت ٹیم میں روہت شرما جیسے تجربہ کار بیٹسمین موجود تھے جو ٹیم کو سنبھال رہے تھے۔ کوہلی نے اس دورے میں ٹی 20 سیریز میں 45، 11، 38 اور 11 رنز، ونڈے سیریز میں 51، 15 اور نو رنز اور پہلے ٹسٹ میچ میں دو اور19 رنز بنائے۔ ویلنگٹن میں سوا تین دن میں میچ 10 وکٹ سے ہارنے کے بعد کوہلی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایک شکست سے ٹیم خراب نہیں ہو جاتی اور صرف ا سکور سے ان کی بیٹنگ کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ دلچسپ ہے کہ ونڈے سیریز میں وراٹ کا بیاٹ تقریبا خاموش رہا تھا اس کے باوجود وہ ہیملٹن میں نیوزی لینڈ الیون کے خلاف بیٹنگ پریکٹس کرنے نہیں اترے۔کوہلی نے اس سے پہلے کولکتہ میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹسٹ میں 136 رنز بنائے تھے جبکہ اندور میں وہ بنگلہ دیش کے خلاف کھاتہ کھولے بغیر آوٹ ہوئے ۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں وشاکھاپٹنم میں 20 اور ناٹ آوٹ 31 اور پونے میں ناٹ آوٹ 254 رنز کی اپنی بہترین اننگز کھیلی تھی۔ بیرونی زمین پر ہندوستانی بیٹسمینوںکو ہمیشہ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب دنیا کے نمبر ایک بیٹسمین سستے میں آوٹ ہو جائیں تو ٹیم پر دباو بڑھ جاتا ہے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ نیوزی لینڈ کے دورے میں سب سے زیادہ شاندار فارم دکھانے والے لوکیش راہول کو ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ روہت شرما زخمی ہونے کی وجہ سے جب ٹسٹ ٹیم سے باہر ہو گئے تو ان کی جگہ شبھمن گل کو شامل کیا گیا جبکہ شاندار فارم کے باوجود راہول ٹسٹ ٹیم میں جگہ نہیں بنا پائے۔ دنیا کی نمبر ایک ٹیم شاید یہ مان بیٹھی تھی کہ وہ کوہلی کے دم پر نیوزی لینڈ سے ٹسٹ سیریز میں نمٹ لے گی۔ لیکن سوا تین دن کے کھیل میں ہندوستان کا پہلی اننگز میں 165 رنز پر اور دوسری اننگز میں 191 رنز پر ڈھیر ہوجانا سب پر عیاں ہے۔