عوام کا زبردست احتجاجی مظاہرہ، بھوک ہڑتال کا انتباہ، پنچایت سکریٹری کو یادداشت
کوہیر ۔ کوہیر منڈل مستقر میجر گرام پنچایت کے تحت واقع ریلوے اسٹیشن تا درگاہ حضرت مولانا معز الدین ترکی ؒ اور آٹو اسٹانڈ چوارستہ کے علاوہ ایس ایس فنکشن تا تحصیل آفس کوہیر کے علاوہ دیگر خستہ ہال سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا مطالبہ کرتے ہوئے کوہیر کی عوام کی جانب سے ایک زبردست احتجاجی ریالی منظم کی گئی۔ اس موقع پر ریالی کا آغاز قدیم بس اسٹانڈ سے کرتے ہوئے احتجاجیوں نے فلک شگاف نعرے بازی کرتے ہوئے فوری سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر گرام پنچایت سکریٹری لکشمی چاری کو ایک تحریری یادداشت حوالے کرتے ہوئے 10 دنوں میں سڑکوں کی تعمیر مرمت کرنے کا الٹی میٹم دیا ورنہ اس کے بعد دفتر گرام پنچایت پر بھوک ہڑتال کی جائے گی۔ احتجاجیوں نے بتایا کہ حکومت کا پہلا کام یہی کی عوام کو بنیادی سہولیات کو اولین ترجیح دیں۔ کوہیر کی سڑکیں تقریباً 3 سالوں سے پوری طرح تباہ شدہ حالت میں ہے۔ عوام کو راستہ چلنا مشکل ترین ہوگیا۔ طلباء کو اسکول، کالج اور مریضوں کو ہاسپٹل جانے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موٹر گاڑیاں رکھتے ہوئے بھی کوہیر کی عوام پیدل چلنے پر اکتفا کررہی ہے۔ اس کے علاوہ طلباء و طالبات کو اسکول کالج چھوڑنے کے لئے گھر سے ایک کو تقرر کیا ہے۔ تھوڑی سی بارش ہوتے ہی سڑکوں میں بڑے بڑے گڑھے ہیں جن میں لال پانی بھر جاتا ہے۔ احتجاجیوں نے مزید کہا کوہیر کی تعمیر و مرمت کے لئے علاوہ عوامی دیگر مسائل کے لئے ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ اور رکن پارلیمنٹ حلقہ ظہیرآباد اور رکن اسمبلی ظہیرآباد کے مانک راؤ کو متعدد مرتبہ یادداشت حوالے کی گئی لیکن اب تک کوئی ردعمل نہیں ہوا۔ احتجاجیوں نے کہا اس موقع پر دفتر گرام پنچایت کا گھیراؤ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کوہیر کے جملہ عوامی نمائندے سرپنچ اراکین منڈل پرجا پریشد، ضلع پریشد رکن اس معاملے میں فوری حرکت میں آتے ہوئے عوامی مسائل کے لئے آگے آنے مطالبہ کیا۔