گھٹنوں کے بل چل کر جائیں مگر ہلدی بورڈ لائیں، بصورت دیگر تلنگانہ میں قدم رکھنے نہ دینے کا انتباہ
حیدرآباد 4 مئی (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کی رکن قاتون ساز کونسل کے کویتا نے نظام آباد بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ ہلدی بورڈ لانے تک تلنگانہ میں اروند کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا بی جے پی قائدین پر الزام عائدکرتے ہوئے کویتا نے آئندہ انتخابات میں ضلع نظام آباد کے 9 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کا دعوی کیا۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے کویتا نے کہا کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کو تین سال کی مہلت دی گئی۔ انہوں نے تین سال کے دوران پارلیمنٹ میں 5 مرتبہ بات کی ہے، مگر بانڈ پیپر پر ہلدی بورڈ لانے کا نظام آباد کے کسانوں سے جو وعدہ کیا تھا اس پر کوئی بات نہیں کی۔ اب یہاں سے ڈی اروند کا پیچھا کیا جائے گا۔ وہ گھٹنوں کے بل دہلی میں پدیاترا کرتے ہیں یا پھراورکیا کرتے ہیں ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ہمیں صرف ہلدی بورڈ چاہئے۔ بصورت دیگر تلنگانہ میں اروند کو قدم رکھنے نہیں دیا جائے گا۔ تین سال کے دوران بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے بہت جھوٹ بول لیا ہے۔ راجناتھ سنگھ سے ڈی اروند تک بی جے پی کے تمام قائدین نے جھوٹ بولا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جھوٹ کے سہارے اقتدار حاصل کرنے والی بی جے پی وعدوں کی تکمیل کرنے کے بجائے مذہب، ذات پات کے درمیان تنازعات پیدا کرتے ہوئے سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوںمیں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ پکوان گیس کے بارے میں بی جے پی کے قائدین خواتین کی توہین کرنے والے ریمارکس کررہے ہیں۔ وہ ڈی اروند سے سوال کرتی ہیں کہ ہلدی بورڈ کب قائم کیا جائے گا اور وہ اس کی کسانوں سے وضاحت کریں۔ ہلدی کو اقل ترین امدادی قیمت دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اس کی بھی وضاحت ضروری ہے۔ گزشتہ تین سال سے نظام آباد کی ترقی کیلئے بی جے پی نے کوئی کام نہیں کیا۔ عوام کو حقائق سے واقف کرانے کے لئے پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس کی جانب سے ہلدی بورڈ کے قیام کے لئے 2014 تا 2019 میںکئے گئے پروگرامس پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس ضلع نظام آباد کے 9 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ن