کٹورہ حوض کی دیوار کی تعمیر ہنوز شروع نہیں ہوئی

   


حیدرآباد :۔ شہر میں ہوئی حالیہ شدید بارش کے دوران 450 سالہ قدیم کٹورہ حوض کی ریٹیننگ وال (پکڑ کی دیوار ) گرے ہوئے دو ماہ کا عرصہ ہورہا ہے ۔ بارش میں یہ دیوار گر گئی اور اس کے اطراف کا علاقہ پوری طرح سیلاب کی زد میں آگیا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ نو گاڑیاں بشمول بائیکس اور کاریں جو اس دیوار کے قریب پارک کی گئی تھیں اس تالاب میں بہہ گئیں ۔ اس سلسلہ میں عہدیداروں کی جانب سے کوئی اقدامات شروع نہیں کئے گئے حالانکہ اس سے لوگوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ کٹورہ حوض تاریخی قلعہ گولکنڈہ میں ایک ہیرٹیج اسٹرکچر ہے ۔ یہ شہر میں ایک بڑا تالاب ہے جو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ( اے ایس آئی ) کے تحت آتا ہے ۔ چار ایکڑ پر محیط کٹورہ حوض کو 1560 میں ابراہیم قطب شاہ کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا ۔ تالاب درگ ( اب درگم چیرو ) کے پانی سے بھرا گیا تھا ۔ اس کا انتظام گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کیا جاتا ہے ۔اس تالاب کی حالت ویسے ہی ہے کیوں کہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے اس کو پھر سے بہتر بنانے کے سلسلہ میں کوئی کام شروع نہیں کئے گئے ۔ ایک سماجی کارکن محمد رفیع نے کہا کہ ’ اکٹوبر میں دو دن کی شدید بارش میں اس کی فینسنگ وال گر گئی ۔ اب دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہورہا ہے کوئی محکمہ کو اس نقصان کے بارے میں فکر مند نہیں ہے ۔ عہدیداروں کو کم از کم ہیرٹیج اسٹرکچر کی مرمت کرنے پر توجہ دینی چاہئے ۔ اس دیوار کی تعمیر اور پورے حوض کی مرمت کروانا ضروری ہوگیا ہے جو بہت خراب حالت میں ہے ۔ کٹورہ حوض کی صفائی کا کام جلد شروع کرنا ہوگا تاکہ اس کی عظمت رفتہ کو برقرار رکھا جائے ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے اے ایس آئی اور جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کے ساتھ اس تالاب کا کئی مرتبہ دورہ کیا ۔ انہوں نے اس تالاب کو خوبصورت بنانے اور اسے تلنگانہ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے حوالہ کرنے کے بعد عوام کے لیے کھول دینے کی بھی تجویز رکھی تھی ۔ لیکن اس میں مزید کوئی کام نہیں ہوا ۔ بارش کے بعد یہ تالاب سیوریج اور دیگر گندگی سے بھرا ہوا ایک حوض بن گیا ۔ اور یہ مچھروں کی افزائش کی جگہ بن گیا ‘ ۔ ایک مقامی شخص محمد جاوید نے کہا کہ ’ گری ہوئی ریٹننگ وال سے عوام کو خطرہ لاحق ہے ۔ اس کی مرمت کرنے اور اصلی حالت میں لانے کی بات تو چھوڑئیے اس پورے راستہ پر کوئی سائن بورڈس یا سیفٹی کے اقدامات نہیں کئے گئے ۔ گاڑیوں پر سواری کرنے والے خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں ۔ اس سڑک پر ٹریفک جام ہورہی ہے ۔ کم از کم جی ایچ ایم سی کو کچھ سیفٹی سائینس کا انتظام کرنا چاہئے ۔ جس سے گاڑی والوں اور مقامی لوگوں کی مدد ہوگی ‘ ۔ رپورٹ کے مطابق کٹورہ حوض کی مرمت اور اس کو بہتر بنانے کا کام اگست 2018 میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے شروع کیا گیا تھا ۔ اس ادارہ نے تالاب میں صفائی کا کام شروع کیا تھا ۔ اس کے بعد اس نے تالاب سے کوڑا کرکٹ نکالنے کیلئے 60 لاکھ روپئے خرچ کئے ۔ 2018 میں آخری مرتبہ اس کی صفائی کرنے کے بعد پھر کوئی کام نہیں کیا گیا ۔۔