نئی دہلی: عالمی ادارہ صحت نے افریقی ملک گیمبیا سمیت دنیا بھر میں 300 افراد کی موت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہندوستان کی 7 کھانسی کے شربت (کھانسی کا سیرپ) بنانے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ دوسری طرف، اس معاملے پر مرکزی وزیر صحت من سکھ منڈاویہ نے کہا ہے کہ جعلی دوائیوں پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے خطرے پر مبنی ایک جامع تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان ادویات کے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت چوکس رہتے ہیں کہ جعلی ادویات کی وجہ سے کسی کی موت نہ ہو۔دوسری جانب ڈبلیو ایچ او نے گیمبیا میں 66 بچوں کی موت کا ذمہ دار کھانسی کے ان شربتوں کو قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی ایجنسی سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق کمپنی اور ریگولیٹری حکام ان کمپنیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔معلومات کے مطابق، ڈبلیو ایچ او ہندوستان اور انڈونیشیا میں کھانسی کے شربت اور وٹامنز بنانے والی 20 کمپنیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔