حیدرآباد 23 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) سوشیل میڈیا کے اس دور میں عوام کسی بھی سیاسی اور غیر سیاسی واقعہ یا تبدیلی پر دلچسپ تبصرے کرتے ہیں۔ سابق میں کئے گئے ریمارکس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے رائے ظاہر کی جاتی ہے ۔ اب جبکہ کہا جا رہا ہے کہ رکن اسمبلی چارمینار جناب ممتاز احمد خاں کو مجلس سے ٹکٹ نہیں دیا جائیگا تو عوام میں یہ تبصرے ہونے لگے ہیں کہ کہیں یہ فیصلہ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ کو ’ طوطا ‘ قراردینے کا نتیجہ تو نہیں ہے ؟ ۔ واضح رہے کہ بلدی انتخابات کی مہم کے دوران رکن اسمبلی چارمینار ممتاز احمد خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے ٹی آر اور بی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مجلس جس وقت چاہے بی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرسکتی ہے ۔ ممتاز خان نے کہا کہ تھا کہ مجلس کئی برسر اقتدار جماعتوں کو دیکھ چکی ہے ۔ کے ٹی آر کو انہوں نے سیاست میں ’ طوطا ‘ قرار دیا تھا ۔ اب جبکہ ممتاز خان کو مجلس سے ٹکٹ ملنے کے امکان دکھائی نہیں دے رہے ہیں تو پرانے شہر میں عوام میں یہ سوال گشت کر رہا ہے کہ آیا ممتاز خان کو ٹکٹ نہ دینے کے فیصلے کے ٹی آر تو اصل محرک نہیں ہیں ؟ ۔ کے ٹی آر نے تو اسد اویسی پر دباؤ بناتے ہوئے یہ فیصلہ نہیں کروایا ہے ؟۔ عوام ایک دوسرے سے اس طرح کی رائے ظاہر کرتے دیکھے گئے ۔