کیاب اینڈ بس آپریٹرس کا احتجاج، مختلف ریاستوں میں رعایتوں کا حوالہ

,

   

حیدرآباد۔ 18 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ کیابس اینڈ بس آپریٹرس اسوسی ایشن نے حکومت سے موٹر وہیکل ٹیکس سے استثنیٰ کا مطالبہ کیا کیوں کہ کیابس اور بسس لاک ڈائون کے نتیجہ میں گزشتہ تین ماہ سے بھاری نقصانات سے گزرہے ہیں۔ اسوسی ایشن کے صدر سید نظام الدین کی قیادت میں بس اور کیاب آپریٹرس نے ناچارم میں واقع بس گیاریج میں علامتی احتجاج منظم کیا جس میں حکومت سے مطالبات کی یکسوئی کی مانگ کی گئی۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سید نظام الدین نے کہا کہ تلنگانہ کے تمام کیابس اور بس آپریٹرس بھاری نقصانات کا سامنا کرچکے ہیں۔ روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی نے 15 مارچ سے پرمٹس کی اجرائی روک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام گاڑیاں اچانک لاک ڈائون کے اعلان کے سبب ڈراپ ڈائون پوائنٹس پر روک دی گئیں۔ لاک ڈائون میں چار مرتبہ توسیع دی گئی۔ آپریٹرس کو آر ٹی اے میں اپنے ڈاکیومنٹس سرنڈر کرنے کے لیے وقت نہیں ملا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے ٹرانسپورٹ شعبہ مکمل طور پر ٹھپ ہے اور حالیہ نرمی کے باوجود صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ نظام الدین نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اڈوانس ٹیکس کی ادائیگی کا مطالبہ غیر انسانی اور غیر اخلاقی ہے۔ ہم ایسی گاڑیوں کا ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار ہیں جو چل رہی ہیں لیکن ایسی گاڑیاں جو گیاریجس میں گزشتہ تین ماہ سے بند ہیں ان کا ٹیکس کیوں کر ادا کیا جائے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اکٹوبر تک ٹور اینڈ ٹراویل انڈسٹری کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب، گجرات، کرناٹک، اڈیشہ، راجستھان، پانڈیچیری اور کیرلا کی حکومتوں نے ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے لیے رعایتوں کا اعلان کیا اور موٹر وہیکل ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا۔اگر تلنگانہ حکومت رعایتوں سے انکار کرے تو ٹرانسپورٹ صنعت تباہی سے دوچار ہوجائے گی۔