کے سی آر تلنگانہ میں اقتدار بچانے کی فکر کریں ‘ مہاراشٹرا میں دال نہیں گلے گی

   

بی جے پی کی بی ٹیم کے طور پر کام کیا جا رہا ہے ۔ اپوزیشن کو نقصان پہونچانا مقصد۔ سنجے راوت کا بیان
حیدرآباد۔27۔جون(سیاست نیوز) کے سی آر کی مہاراشٹرا میں نوٹنکی ان کے تلنگانہ میں اقتدار سے محرومی کا سبب بنے گی۔ مہاراشٹرا کی سیاست پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا کوئی اثر نہیں ہیں اور عوام جان چکے ہیں کہ وہ بی جے پی کی ’بی‘ ٹیم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ رکن راجیہ سبھا سنجے راوت نے کے سی آر کے دورہ مہاراشٹرا پر شدید ردعمل ظاہر میں کہا کہ مہاراشٹرا میں کانگریس۔ این سی پی اور شیوسینا اتحاد کو کمزور کرنے بی جے پی نے کے سی آر کو مہاراشٹرا میں سرگرم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اپنا اثر کھو رہے کے سی آر نے بڑے قافلہ کے ساتھ مہاراشٹرا میں جس وقت قدم رکھ رہے تھے اس وقت ان کی پارٹی کے کئی قائدین دہلی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر رہے تھے ۔ سنجے راوت نے کہا کہ بی جے پی کی ایماء پر مہاراشٹرا میں ووٹ کی تقسیم کی سیاست پر عمل کرنے کے چندر شیکھر راؤ مہاراشٹرا کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہو ںنے کے سی آر سے استفسار کیا کہ وہ آخر کیوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہورہے ہیں جبکہ ان کی شناخت ایک جدوجہد کرنے والے سیاستداں کی حیثیت سے بنی تھی۔ سنجے راوت نے کہا کہ مہاراشٹرا میں کے سی آر کی سیاست کا کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ مہاراشٹرا کے عوام جانتے ہیں کہ بی جے پی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والوں سے کس طرح نمٹنا ہے۔ انہوں نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ تلنگانہ میں اپنے اقتدار کو بچانے کی کوشش کریں اور مہاراشٹرا کی سیاست میں قدم کا رکھنے کا خیال ترک کردیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ گذشتہ چند ماہ سے مہاراشٹرا کی سیاست میں سرگرم ہونے کوشش کے طور پر مہاراشٹرا کے دوروں پر ہیں اور مختلف اضلاع میں پروگرامس کرکے مختلف جماعتوں کے قائدین کو بی آر ایس میں شامل کرنے میں مصروف ہیں۔ کے سی آر کے مہاراشٹرا کی سیاست میں داخلہ کی کوششوں پر این سی پی قائد شردپوار نے بھی شدید ردعمل ظاہر کرکے کہا تھا کہ بھارت راشٹرسمیتی دراصل ریاست میں مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور بی آر ایس اپوزیشن کے ووٹ کو تقسیم کرنے بی جے پی کی ’بی ‘ ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہو ںنے بی آر ایس کی اپوزیشن اتحاد میں عدم شمولیت پر بھی سوال اٹھاکر کہا تھا کہ ملک میں برسراقتدار جماعت کی آمریت کے خلاف محاذ سے دور رہتے ہوئے کے سی آر نے ثابت کردیا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ مہاراشٹر ا(حیدرآباد) کے علاقوں میں بھارت راشٹر سمیتی تلگو عوام کے درمیان اپنے اثر کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ناکام ہوگی۔م