کے سی آر سے تلنگانہ نہیں ،علحدہ ریاست کانگریس پارٹی کی دین

   


سکریٹری اے آئی سی سی مدھو یاشکی گوڑ کا دعویٰ، 6 سال میں 35 ہزار تقررات
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے کے سی آر نہیں تو تلنگانہ نہیں کے نعرہ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اگر کانگریس نہیں چاہتی تو آج تلنگانہ ریاست کا وجود نہ ہوتا۔ اے آئی سی سی سکریٹری مدھو یاشکی گوڑ اور سابق مرکزی وزیر بلرام نائک نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سدی پیٹ کے جلسہ عام میں چیف منسٹر نے خود کو تلنگانہ کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے تکبر کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ٹی آر ایس کے صرف دو ارکان پارلیمنٹ کے سبب تلنگانہ کی تشکیل کیسے ممکن تھی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے نوجوانوں کی قربانیو ں اور عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست تشکیل دی ۔ تلنگانہ کی تشکیل کانگریس کا کارنامہ ہے لیکن کے سی آر نے دھوکہ کے ساتھ اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ کے سی آر خاندان بھاری اثاثہ جات اور دولت اکھٹا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر بلدی نتائج سے کے سی آر خوفزدہ ہیں ، لہذا نریندر مودی کو منانے کیلئے نئی دہلی پہنچ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات میں مودی اور بی جے پی پر تنقید کرنے والے کے سی آر اچانک دہلی کیوں پہنچ گئے۔ دہلی میں تین روزہ قیام کے دوران وزیراعظم سے ملاقات کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپائنٹمـنٹ کے بغیر دہلی جانا تلنگانہ عوام کی توہین ہے۔ چیف منسٹر کے دورہ کے پس پردہ عوامل کو برسر عام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی اور ای ڈی کے مقدمات سے گھبراکر کے سی آر دہلی پہنچ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 برسوں میں ایک بھی انتخابی وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ پورا نہیں ہوا ۔ اس کے علاوہ ہر سال ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے گورنر کو پیش کردہ رپورٹ میں گزشتہ 6 برسوں میں 35000 تقررات کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے انتخابات کے بعد سیلاب کے متاثرین کو 25000 روپئے کی امداد کا وعدہ کیا تھا لیکن بی جے پی قائدین اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔ ریاستی حکومت نے متاثرین کی امداد کو روک دیا ہے۔ انہوں نے می سیوا مراکز پر رجسٹریشن روکنے کی مخالفت کی ۔ مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ کانگریس پارٹی شکست کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہے۔ نئے پردیش کانگریس کے صدر کا انتخاب کانگریس ہائی کمان کرے گا۔