کے سی آر کو اسمبلی کی تحلیل یا گجویل سے استعفیٰ کا چیلنج

   

ملا ریڈی کے خلاف دستاویزی ثبوت جاری ، کارروائی کرنے صدر پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی کا مطالبہ
حیدرآباد27 اگست (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو اسمبلی تحلیل کرنے اور وسط مدتی انتخابات کا سامنا کرنے یا پھر گجویل سے مستعفی ہوکر دوبارہ مقابلہ کا چیلنج کیا ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر اور ٹی آر ایس قائدین کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور آئندہ 20 ماہ میں شکست کا یقین ہوچکا ہے۔ کانگریس کے وزرا کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر اپنے قدموں میں رہنے والے قائدین کو میدان میں اتارا گیا تاکہ گالی گلوج کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکاجگری میں انہوں نے ملا ریڈی پر کامیابی حاصل کی ہے ، لہذا شکست خوردہ شخص کو دوبارہ مقابلہ کا چیلنج کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر چیف منسٹر میں ہمت ہو تو وہ اسمبلی تحلیل کریں یا پھر گجویل سے استعفیٰ دیں جہاں میرا مقابلہ ان سے ہوگا۔ صدر کانگریس اور صدر ٹی آر ایس کے درمیان مقابلہ ہوسکتا ہے ۔ ریونت نے وزیر لیبر ملا ریڈی کی مختلف بدعنوانیوں کے دستاویزات جاری کئے اور چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ جس طرح راجندر اور راجیا کے خلاف کارروائی کی گئی ، اسی طرح ملا ریڈی کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف منسٹر کرپشن اور بدعنوانیوں کے خاتمہ میں سنجیدہ ہیں تو انہیں ملا ریڈی کے خلاف اے سی بی یا ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کرنا چاہئے ۔ ریونت ریڈی نے جو دستاویزات جاری کئے ان میں سرکاری اراضی کو خانگی اراضی میں تبدیل کرنے اور انجنیئرنگ کالج رینک کیلئے جعلی دستاویز پیش کرنا شامل ہیں۔ انہوںنے ریونیو ، رجسٹریشن اینڈ اسٹامپ اور مرکزی ادارے NAC کے دستاویزات کو میڈیا کے روبرو پیش کیا اور تحقیقات کیلئے چیف منسٹر کو چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملا ریڈی اداروں کو خانگی یونیورسی کا درجہ حاصل کرنے گنڈلا پوچم پلی میونسپلٹی کے تحت سروے نمبر 650 کی 22 ایکر 8 گنٹہ اراضی کو سرکاری ریکارڈ میں تبدیل کرکے 33 ایکر 20 گنٹہ بتایا گیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ 1961 ء کے پہانی دستاویزات میں جو اراضی درج ہے وہ 2021 ء میں کس طرح اضافہ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اراضی میں اضافہ کو دھاندلیوں کا نتیجہ قرار دے کر 1961 ء کا پہانی میڈیا کیلئے جاری کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اراضی کے تحت 16 ایکر ملا ریڈی کے برادر نسبتی نے بطور تحفہ دیا ہے جبکہ اس اراضی کو 2004 اور 2015 ء میں پلاٹنگ کے ذریعہ فروخت کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جواہر نگر میونسپلٹی کے سروے نمبر 488 میں 5 ایکر اراضی کو خانگی قرار دیا گیا جبکہ دھرانی پورٹل پر اسے امتناعی لسٹ میں شامل کیا گیا تھا ۔ سرکاری اراضی کو خانگی ظاہر کرکے ہاسپٹل تعمیر کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ انجنیئرنگ کالج کا گریڈ حاصل کرنے NAC کو بی ایچ ای ایل ، ایر ٹیل اور دیگر اداروں کے جعلی مکتوب حوالے کئے گئے جس کے خلاف کارروائی کرکے NAC نے کالج کو 5 سال کیلئے کالعدم کردیا تھا ، باوجود اسکے کے سی آر نے یونیورسٹی کا درجہ دیا ہے ۔ اسی طرح انجنیئرنگ اور میڈیکل کالجس میں فرضی ناموں پر فیس ری ایمبرسمنٹ کی کروڑہا رقم حاصل کی گئی جس کا انکشاف ویجلنس انفورسمنٹ رپورٹ میں ہوا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جس طرح ڈاکٹر راجیا اور راجندر کے خلاف کارروائی کی گئی ، اسی طرح ملا ریڈی کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ R