تلنگانہ دینے والے کو ٹورسٹ کہنا افسوسناک ، ریاستوں کا دورہ کرنے والے کے سی آر کو کیا کہا جائے ، اقتدار ملنے پر بدعنوانیوں کی تحقیقات
حیدرآباد۔/8 مئی، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کو سیاسی بھیک کانگریس پارٹی نے دی ہے اور تلنگانہ میں کے سی آر کی سیاسی شناخت کانگریس کی مرہون منت ہے۔ رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی، سابق وزیر محمد علی شبیر اور سابق وزیر ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کو سیاسی طور پر جنم دینے والی پارٹی کانگریس پر ریاستی وزیر کے ٹی آر کی تنقید مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کے ٹی آر سے سوال کیا کہ وہ ایسی پارٹی پر تنقید کرنے کی جرأت کررہے ہیں جس نے ان کے والد کو سیاسی طور پر جنم دیا ہے۔ ریونت ریڈی نے راہول گاندھی کے دورہ پر کے ٹی آر اور دیگر قائدین کی تنقیدوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا سیاسی سفر شکست سے شروع ہوا اور عوامی ناراضگی اور برہمی کے خوف سے کے سی آر نے ہمیشہ مختلف اضلاع میں پارلیمنٹ کیلئے مقابلہ کیا۔ سدی پیٹ سے کریم نگر اور پھر وہاں سے محبوب نگر میں مقابلہ کیلئے حلقہ جات کو تبدیل کرتے رہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ عوامی ناراضگی سے بچنے کیلئے راہ فرار اختیار کرنے والے شخص کے سی آر کو کانگریس پر تنقید کا حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت کے سی آر کانگریس پارٹی میں تھے انہیں سنگل ونڈو ڈائرکٹر کے عہدہ کے الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور کانگریس پارٹی نے انہیں صدرنشین مقرر کرتے ہوئے سیاسی بھیک دی تھی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ گاندھی خاندان پر تنقید کا کے سی آر خاندان کو کوئی حق نہیں ہے کیونکہ کے سی آر خاندان صرف اپنی بھلائی کیلئے کام کررہا ہے جبکہ گاندھی خاندان نے ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور پھر سونیا گاندھی نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے موقع ملنے کے باوجود وزیر اعظم کے عہدہ کو قبول نہ کرتے ہوئے عظیم قربانی کی مثال پیش کی ہے۔ منموہن سنگھ اور پی وی نرسمہا راؤ جیسے دانشوروں کو کانگریس نے وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز کیا جنہوں نے ملک میں معاشی اصلاحات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پنجاب میں ایک دلت کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا ہے اور ملک میں دلت کو چیف منسٹر بنانے کی تاریخ کانگریس سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں خود اس عہدہ پر فائز ہوگئے۔ کانگریس نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن کے عہدہ پر دلت قائد ملیکارجن کھرگے کو موقع دیا۔ تلنگانہ میں بھٹی وکرامارکا کو سی ایل پی لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کے سی آر کو دلتوں سے نفرت کیوں ہے اور انہوں نے چیف منسٹر نہ سہی ایک دلت ڈپٹی چیف منسٹر کو برداشت نہیں کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ راہول گاندھی کے بارے میں اظہار خیال کرنے کی اہلیت کے ٹی آر کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کس عہدہ کے ساتھ تلنگانہ کے دورہ پر آئے اس بارے میں کے ٹی آر سوال کررہے ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ راہول گاندھی پر کس عہدہ کے ساتھ تنقید کررہے ہیں۔ شرد پوار، ایم کے اسٹالن، ممتا بنرجی کے پاس جب کے سی آر جاسکتے ہیں تو پھر تلنگانہ کے کسانوں کے مسائل جاننے کانگریس سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے راہول گاندھی بھی تلنگانہ کے دورہ کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ دینے والے کانگریس قائد راہول گاندھی پولٹیکل ٹورسٹ ہیں تو پھر مختلف ریاستوں کا دورہ کرنے والے کے سی آر کو کونسا ٹورسٹ کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی انچارج ترون چگ اور کے ٹی آر کے علاوہ مجلس کے صدر اسد الدین اویسی ایک زبان میں بات کررہے ہیں۔ ان تینوں کی ایک زبان اور ایک ہی جذبات ہیں۔ راہول گاندھی کے دورہ سے یہ تینوں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد نہ صرف کسانوں کے ڈیکلریشن پر عمل کیا جائے گا بلکہ یادگیری گٹہ اور یادگار شہیدان تلنگانہ کی تعمیر میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔ر