کے سی آر کی خاندانی حکمرانی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت

   

عوام تبدیلی کیلئے تیار، سابق مرکزی وزیر منیش تیواری کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/14 نومبر، ( سیاست نیوز) سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے تلنگانہ عوام سے اپیل کی کہ کے سی آر کی خاندانی حکمرانی کے خاتمہ اور عوامی حکومت کے قیام کیلئے کانگریس کی تائید کریں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے منیش تیواری نے کہا کہ نوجوانوں کی قربانیوں اور عوامی جدوجہد کا احترام کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی۔ عوام کو امید تھی کہ نئی ریاست میں ان کے ساتھ انصاف ہوگا لیکن گذشتہ 10 برسوں میں صرف کے سی آر خاندان کی بھلائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی اور غریب کے سی آر حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کیلئے سینکڑوں نوجوانوں نے قربانیاں دیں اور 2014 میں کانگریس نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں علحدہ تلنگانہ بل کو منظوری دی تاکہ عوام کی توقعات پوری ہوسکیں۔ بی آر ایس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیتے ہوئے منیش تیواری نے کہا کہ بی آر ایس نے پارلیمنٹ میں ہر مسئلہ پر بی جے پی کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کیلئے دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت ہوچکی ہے۔ اسمبلی چناؤ میں بی آر ایس کی کامیابی کیلئے بی جے پی کام کرے گی اور لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کی زائد نشستوں کو بی آر ایس یقینی بنائے گی۔ منیش تیواری نے کہا کہ نوٹ بندی کی تمام پارٹیوں نے مخالفت کی لیکن بی آر ایس واحد پارٹی تھی جس نے کھل کر تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں خاندانی حکمرانی کے خاتمہ کے ذریعہ ترقی کی نئی راہیں ہموار کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کو 10 لاکھ روپئے کی امداد کا وعدہ کیا گیا اور غریبوں کو ڈبل بیڈ روم مکانات لیکن دونوں وعدے پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ کانگریس برسراقتدار آتے ہی 6 ضمانتوں پر عمل کرے گی۔