7 جنگلی جانور سے بچاؤ کیلئے ماہر شکاری ضروری،ایک سال میں 2 لاکھ جائیدادوں پر تقررات
7 کاماریڈی، وردھنا پیٹ اور اسٹیشن گھن پور میں صدر پردیش کانگریس کی انتخابی مہم
حیدرآباد۔/14نومبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ جس طرح جنگلی جانوروں کے ظلم سے نجات کیلئے ماہر شکاریوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اسی طرح کاماریڈی کے عوام پر کے سی آر کے امکانی ظلم کو روکنے کیلئے کانگریس ہائی کمان نے انہیں امیدوار بنایا ہے۔ ریونت ریڈی نے آج انتخابی حلقہ کاماریڈی کا دورہ کیا اور مختلف کارنر میٹنگس سے خطاب کرتے ہوئے کوڑنگل کے علاوہ کاماریڈی سے مقابلہ کی وجوہات بیان کیں۔ ریونت ریڈی نے 10 نومبر کو پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد پہلی مرتبہ کاماریڈی کا دورہ کیا اور روڈ شو کے ذریعہ عوام سے ملاقات کی۔ انہوں نے کاماریڈی میں تین مقامات پر کارنر میٹنگس سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور تلنگانہ میں آئندہ کانگریس حکومت کی پیش قیاسی کی۔ ریونت ریڈی نے آج اسٹیشن گھن پور اور وردھنا پیٹ اسمبلی حلقوں میں بھی کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ کاماریڈی میں سابق وزیر محمد علی شبیر کے ہمراہ روڈ شو اور کارنر میٹنگس سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے عوام کو انتباہ دیا کہ اگر کے سی آر کامیاب ہوتے ہیں تو وہ کاماریڈی کی تمام قیمتی اراضیات کو ہڑپ لیں گے۔ ترقی کے نام پر ماسٹر پلان تیار کیا گیا جس کا مقصد عوام کی اراضیات کو ہڑپنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کے سی آر دو مقامات سے مقابلہ کررہے ہیں میرے دو مقامات سے مقابلہ پر اعتراض کیا جارہا ہے۔ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی جنگل سے جانور نکل کر آبادی میں پہنچ جائے اور انسانوں اور جانوروں کو ہلاک کرنے لگے تو ماہر شکاری کو طلب کیا جاتا ہے، کاماریڈی میں کے سی آر کی جانب سے اراضیات کو ہڑپنے کی منصوبہ بندی کو دیکھتے ہوئے محمد علی شبیر نے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے درخواست کی کہ کاماریڈی میں ریونت ریڈی ماہر اور کامیاب شکاری ثابت ہوسکتے ہیں جس کے بعد ہائی کمان نے مجھے کاماریڈی سے مقابلہ کی ہدایت دی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ماسٹر پلان کے نام پر کاماریڈی کی تمام قیمتی اراضیات ہڑپ لی جائیں گی اور مظالم کو روکنے کیلئے میں کاماریڈی سے مقابلہ کررہا ہوں۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ ڈبل بیڈ روم مکانات کے علاوہ غریبوں کو مکانات کی تعمیر کیلئے 5 لاکھ روپئے کی مدد کی جائے گی۔ روزگار کی فراہمی کا کے سی آر کا وعدہ پورا نہیں ہوا، اور بیروزگار نوجوانوں کے بجائے کے سی آر خاندان کو روزگار حاصل ہوا۔ کے سی آر کی ملازمت ختم کرتے ہوئے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے جس کے لئے تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی اور اندراماں راج کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس برسراقتدار آتے ہی ایک سال میں 2 لاکھ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے خواتین کو 500 روپئے میں پکوان گیس سلینڈر اور غریبوں کو ماہانہ 200 یونٹ مفت برقی کی سربراہی کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک کے قرض معاف کئے جائیں گے اور رعیتو بھروسہ کے تحت فی ایکر 15 ہزار روپئے امداد دی جائے گی۔ انہوں نے ہر غریب اور مستحق کو راشن کارڈ کی اجرائی کا وعدہ کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جس طرح گجویل میں کسانوں اور غریبوں کی اراضیات کو چھین لیا گیا ہے اسی طرح کے سی آر کاماریڈی میں بھی ماسٹر پلان کے نام پر اراضیات ہڑپنا چاہتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے اسٹیشن گھن پور اور وردھنا پیٹ میں عوام سے اپیل کی کہ مقامی بی آر ایس ارکان اسمبلی کو شکست سے دوچار کریں جو عوام کی توقعات میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 12 خواتین کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ بی آر ایس نے صرف 6 خواتین کو ٹکٹ دیا۔ ریونت ریڈی نے عوام کو پیشگی دعوت دی کہ وہ 9 ڈسمبر کو صبح 10 بجے لال بہادر اسٹیڈیم میں کانگریس حکومت کی حلف برداری تقریب میں شریک ہوں۔
ریونت ریڈی تلنگانہ کے آئندہ چیف منسٹر: محمد علی شبیر
حیدرآباد۔/14 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کے تلنگانہ میں برسراقتدارآنے پر چیف منسٹر کون ہوگا اس بارے میں صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ ہائی کمان نے الیکشن میں کسی قائد کو چیف منسٹر کے چہرہ کے طور پر پیش نہیں کیا ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے حامی انہیں آئندہ چیف منسٹر قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر قائدین کا کہنا ہے کہ ہائی کمان کے فیصلہ تک اس طرح کا دعویٰ کرنا ٹھیک نہیں۔ اسی دوران کاماریڈی میں آج ریونت ریڈی کی انتخابی مہم کے دوران سابق وزیر محمد علی شبیر نے ریونت ریڈی کو آئندہ چیف منسٹر قرار دیتے ہوئے پارٹی حلقوں میں سنسنی دوڑا دی ہے۔ ماچاریڈی منڈل کے ریڈی پیٹ گاؤں میں روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ’’ شبیرآپ کو چھوڑ کر نہیں گئے ہیں بلکہ آپ کے دلوں میں موجود ہوں، میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ بھاری اکثریت سے ریونت ریڈی کو کامیاب بنائیں جو تلنگانہ کے آئندہ چیف منسٹر ہوں گے۔‘‘