کے سی آر، کے ٹی آر اور ریونت ریڈی کو چناؤ میں سخت مقابلہ درپیش ہوگا

   

ہریش راؤ کو کوئی خطرہ نہیں، کئی وزراء کی مشکلات میں اضافہ، چیف منسٹر کے خلاف راجندر کی اہلیہ متوقع امیدوار

حیدرآباد۔/12ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے تاہم کے سی آر نے 115 اسمبلی حلقہ جات کے امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے انتخابی ماحول پیدا کردیا ہے۔ بی آر ایس گذشتہ دو اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کو باآسانی شکست دینے میں کامیاب رہی لیکن اس مرتبہ صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ 2014 اور پھر 2018 میں اسوقت کی ٹی آر ایس کو تشکیل حکومت میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی لیکن کانگریس اور بی جے پی کی بڑھتی سرگرمیوں نے بی آر ایس کے مقابلہ کو سخت بنادیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ، وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ اور کئی وزراء کو اسمبلی چناؤ میں سخت چیلنج درپیش ہونے کے امکانات ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے موجودہ حلقہ انتخاب گجویل کے علاوہ کاماریڈی سے مقابلہ کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ مرتبہ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی ٹی نرسا ریڈی کو کے سی آر نے بھاری اکثریت سے شکست دی تھی لیکن اس مرتبہ کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے کے سی آر کے خلاف مضبوط امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی اطلاعات کے سبب کے سی آر کو دو حلقوں سے مقابلہ کا فیصلہ کرنا پڑا۔ خود برسراقتدار پارٹی کے قائدین کو چیف منسٹر کے فیصلہ پر حیرت ہے اور ان کا ماننا ہے کہ بیک وقت دو حلقہ جات سے مقابلہ سے پارٹی کی کمزوری ظاہر ہوگی اور رائے دہندوں پر اچھا اثر نہیں پڑے گا۔ کانگریس امیدوار کے طور پر دوبارہ ٹی نرسا ریڈی کو میدان میں اتارنے کی تیاری ہے جبکہ بی جے پی ٹکٹ کیلئے رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر کی اہلیہ جمنا نے ٹکٹ کیلئے درخواست دی ہے۔ بی آر ایس سے علحدگی کے بعد حکومت کی جانب سے راجندر کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیوں کا بدلہ لینے کیلئے جمنا گجویل سے مقابلہ کے حق میں ہیں۔ اگر بی جے پی جمنا کو امیدوار بناتی ہے تو کے سی آر کیلئے مقابلہ سخت ہوگا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی جو ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں وہ اسمبلی چناؤ میں کوڑنگل سے مقابلہ کریں گے۔ کانگریس میں چیف منسٹر کے امیدوار کے طور پر غیر معلنہ انداز میں ابھرنے والے ریونت ریڈی کو بی آر ایس کی جانب سے سخت مقابلہ درپیش ہوسکتا ہے۔ ریونت ریڈی کو گذشتہ اسمبلی چناؤ میں کوڑنگل سے شکست ہوئی تھی۔ سرسلہ اسمبلی حلقہ میں وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کا مقابلہ بھی عوام کیلئے دلچسپی کا باعث رہے گا۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کے مقابلہ میں کانگریس پارٹی کے مہیندر ریڈی کو دوبارہ ٹکٹ دینے کی تیاری کررہی ہے۔ مہیندر ریڈی 2009 سے مسلسل اس حلقہ سے مقابلہ کررہے ہیں۔ سرسلہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے کے لوک سبھا حلقہ میں شامل ہے۔ بی جے پی کے بعض گوشے کے ٹی آر کے خلاف بنڈی سنجے کو امیدوار بنانے کی سفارش کررہے ہیں۔ اسی طرح کاماریڈی میں کے سی آر سے مقابلہ کیلئے بی جے پی میں رکن پارلیمنٹ نظام آباد ڈی اروند کا نام زیر گشت ہے۔ وزیر صحت ہریش راؤ کا انتخابی حلقہ سدی پیٹ مضبوط قلعہ میں تبدیل ہوچکا ہے اور ابھی تک کانگریس اور بی جے پی سے انہیں سخت مقابلہ دینے والا کوئی امیدوار تیار نہیں کیا گیا۔ گذشتہ انتخابات میں بیشتر حریف امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ وزیر پنچایت راج دیاکر راؤ کو پالاکرتی اسمبلی حلقہ میں کانگریس کی جھانسی ریڈی سے مقابلہ درپیش ہوسکتا ہے جو این آر آئی ہیں۔ دیاکر ریڈی اس حلقہ سے 6 مرتبہ منتخب ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر جنگلات اندرا کرن ریڈی نے نرمل میں اپنا موقف مستحکم کرلیا ہے تاہم اس مرتبہ کانگریس سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق رکن اسمبلی مہیشور ریڈی ان کے خلاف میدان میں آسکتے ہیں۔ کریم نگر میں وزیر سیول سپلائیز جی کملاکر کو کانگریس اور بی جے پی دونوں سے سخت مقابلہ درپیش ہوگا۔ بی جے پی کی جانب سے بنڈی سنجے کو امیدوار بنانے کی اطلاعات ہیں۔ شہر کے ایل بی نگر اسمبلی حلقہ سے ڈی سدھیر ریڈی کو اس مرتبہ کانگریس تشہیری کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سدھیر ریڈی کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد بی آر ایس میں شامل ہوگئے تھے۔ ایل بی نگر سے بی آر ایس کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب ہونا ان کیلئے چیلنج سے کم نہیں۔ نلگنڈہ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، نلگنڈہ اسمبلی حلقہ سے بی آر ایس کے بھوپال ریڈی کے خلاف مقابلہ کرسکتے ہیں۔ حضور نگر میں سابق صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی اور کوداڑ میں ان کی شریک حیات پدماوتی ریڈی کے مقابلہ کا امکان ہے۔ اتم کمار ریڈی نے چیلنج کیا ہے کہ اگر 50 ہزار کی اکثریت سے کامیابی حاصل نہ ہو تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ دوباک اسمبلی حلقہ سے بی جے پی رکن اسمبلی رگھونندن راؤ کے دوبارہ مقابلہ کا امکان ہے۔ بی آر ایس امیدواروں کی فہرست کی اجرائی کے بعد جو سروے کیا گیا اس کے مطابق کئی وزراء اور بی آر ایس ارکان اسمبلی کیلئے مجوزہ چناؤ فیصلہ کن ثابت ہوگا۔