کے سی آر حکومت میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ

   

رئیتو بندھو اسکیم کی رقومات جاری نہیں کی گئیں، ایم کودنڈاریڈی کا بیان
حیدرآباد۔ 15 نومبر (سیاست نیوز) آل انڈیا کسان کانگریس کے نائب صدرنشین اور سابق رکن اسمبلی این کودنڈا ریڈی نے کے سی آر حکومت پر زرعی شعبے کے مسائل حل کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں کسان نقصان سے دوچار ہیں۔ رئیتو بندھو اسکیم کے سلسلہ میں خریف کے لیے 12 ہزار کروڑ کی اجرائی کا چیف منسٹر نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک 50 فیصد کسانوں کو بھی رئیتو بندھو اسکیم کی رقم حاصل نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے کے سی آر نے کسانوں سے کئی وعدے کئے لیکن حکومت کی تشکیل کے بعد ان وعدوں کو فراموش کردیا گیا۔ کودنڈاریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں کسانوں کے لیے خوش حالی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں کے نتیجہ میں کسانوں کے خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ کے سی آر نے تلنگانہ کو کسانوں کی خودکشی سے پاک بنانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی اراضیات کے ریکارڈ کی درستگی میں محکمہ مال ناکام ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان اراضی کا ریکارڈ درست کرانے کے لیے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 11 لاکھ کسانوں کو پاس بک جاری نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں یہ کسان رئیتو بندھو اسکیم کے رقومات سے محروم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں ہر کسان کو ایک لاکھ روپئے تک قرض کی معافی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس طرح 38 ہزار کروڑ روپئے کسانوں کے معاف کئے جانے باقی ہیں۔ ایک سال گزرنے کے باوجود آج تک کسانوں کے قرضہ جات معاف نہیں کئے گئے۔ کودنڈاریڈی نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں آفات سماوی سے فصلوں کو ہوئے نقصانات پر کسانوں کو ایک مرتبہ بھی امداد جاری نہیں کی گئی۔ حالانکہ کسان آفات سماوی کے نتیجہ میں بھاری نقصانات سے دوچار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن، مکئی اور دھان کی پیداوار کے سلسلہ میں حکومت نے خریدی کے مراکز قائم نہیں کئے جس کے نتیجہ میں کسان اقل ترین امدادی قیمت سے محروم رہے۔ اور انہیں کم قیمت پر اپنی پیداواری اشیاء کو فروخت کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیداواری اشیاء کی خریدی کے مراکز کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن کسان اپنے جائز حق این ایس ٹی سے محروم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بینکوں کی جانب سے کسانوں کو قرض کی منظوری سے انکار کے سبب کسان سوٹ پر رقم حاصل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ دن بہ دن قرض کے بوجھ کا شکار ہوکر کسان خودکشی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کودنڈاریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کسانوں کے تحفظ کے لیے فوری قدم اٹھائے۔