قائدین کو وجہ نمائی نوٹس کا امکان، عوام میں اُلجھن کا اندیشہ
حیدرآباد۔ بی جے پی کی قومی قیادت نے پارٹی کے بعض مقامی قائدین کی ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ سے ملاقات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بی جے پی کے بعض قائدین نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے لنگوجی گوڑہ ڈیویژن کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس امیدوار کو میدان میں نہ اُتارنے کی اپیل کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی تھی۔ اس حلقہ کے چناؤ کو مقابلہ کے بغیر متفقہ بنانے کے مقصد سے یہ مساعی کی گئی جس پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے ٹی آر ایس امیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کیا۔ بی جے پی کے منتخب کارپوریٹر کے رمیش گوڑ کے دیہانت سے یہ نشست خالی ہوئی جس کے لئے ضمنی چناؤ کا اعلامیہ جاری ہوا ہے۔ بی جے پی نے آنجہانی کارپوریٹر کے فرزند اکھل گوڑ کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حیدرآباد ایم ایل سی نشست سے حال ہی میں شکست خوردہ بی جے پی امیدوار این رامچندرراؤ اور بعض دوسروں نے پرگتی بھون پہنچ کر کے ٹی آر سے ملاقات کی اور کے ٹی آر نے فوری اتفاق کرلیا تھا۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق قومی قیادت نے کے ٹی آر سے ملاقات کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قیادت کی مرضی کے خلاف بعض قائدین نے اپنے طور پر یہ قدم اٹھایا جس پر انہیں وجہ نمائی نوٹس دی جاسکتی ہے۔ رامچندر راؤ اور دیگر قائدین کو نوٹس کی اجرائی کا امکان ہے۔ ریاستی قیادت سے مشاورت کے بغیر ہی یہ ملاقات کی گئی اور اس بارے میں قومی قیادت کو بھی لاعلم رکھا گیا۔ قومی قائدین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات سے عوام میں بی جے پی کے بارے میں غلط پیام جائے گا اور درپردہ مفاہمت دکھائی دے گی۔ ناگرجنا ساگر ضمنی چناؤ کے دوسرے دن ہی بی جے پی قائدین کی کے ٹی آر سے ملاقات نے قومی قیادت کی برہمی میں اضافہ کردیا ہے۔ پارٹی ذرائع نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے کوئی درپردہ مفاہمت نہیں ہے لیکن بلدی ڈیویژن کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کے مقابلہ نہ کرنے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوں گی۔ پارٹی کو یقین ہے کہ ٹی آر ایس کے مقابلہ کے باوجود بی جے پی امیدوار ہمدردی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کریں گے۔دوباک میں ٹی آر ایس رکن اسمبلی کی بیوہ کو ٹکٹ دیئے جانے کے باوجود بی جے پی نے مقابلہ کیا تھا لیکن حیدرآباد کے بلدی ڈیویژن سے ٹی آر ایس کا مقابلہ نہ کرنا عوام میں اُلجھن پیدا کرسکتا ہے۔ اسی دوران کے ٹی آر سے ملاقات کرنے والے رامچندر راؤ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت کو ملاقات کے بارے میں واقف کرایا تھا۔