چار سال سے میونسپل انتخابات نہیں ہوئے، 22 جنوری کو ریاستی وزیر کے مجوزہ دورہ پر وائی نروتم کا ردعمل
ظہیرآباد ۔ رکن ٹی پی سی سی وائی نو رتم نے آج اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا کہ ریاستی بلدیات اور آئی ٹی کے وزیر کلوا کنٹلا تارک راما راؤ 22 جون کو ظہیر آباد کے دورے پر آ رہے ہیں۔ انہوں نے شہر ظہیرآباد کی ترقی کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ چار سال گزر چکے ہیں ظہیرآباد میونسپل میں آج تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، واضح رہے کہ ظہیرآباد میونسپل کونسل میں ایک گرام پنچایت کے کچھ افراد اس گرام پنچایت کو ظہیرآباد میونسپل میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ماضی میں ایک کیس چل رہا تھا۔ عدالتی کیس کلیئر ہونے کے چھ ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک انتخابات نہیں ہو سکے۔ اور میونسپل ظہیر آباد کے کئی وارڈوں میں نالوں پر ناجایز قبضے کی اطلاع متعلقہ افسران کی توجہ میں لایا گیا اسکے خلاف اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔اسطرح ظہیرآباد میں 1012 ڈبل بیڈ رومس مکانات کی تعمیرات کی جا رہی ھے جن میں سے 312 کی تکمیل مکمل ہو کر غریب لوگوں کو الاٹ نہیں کیے گئے۔ 1978 میں IDSMT کالونی شروع کی گئی تھی۔ جسکے تحت عام لوگوں کو پلاٹ دینے شروع کر دیا گیا جس کے بعد عدالت میں کافی ہنگامہ آرائی ہوئی، عدالت نے ان کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ بھی سنایا، 5 سال ہو گئے لیکن محکمہ بلدیات میں التوا کا شکار ہے۔ اسی طرح حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کے کسان نمز NIMZ پروجکٹ کو زمین دینے سے انکار کر رہے ہیں تو ریاستی وزیر کسانوں کے زمینی مسائل کو حل کیے بغیر ایک پرائیویٹ کمپنی کی زمین پر بھومی پوجا کرنے آرہے ہیں جو بالکل نامناسب ہے۔ اسی طرح بارش ہو رہی ہے اور کسانوں کے لیے ہل چلا کر بیج بونے کا وقت ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے کسانوں کو سبسیڈی والے بیج کی فراہمی نہیں ہوئی، مارکیٹ میں جعلی بیج کی سپلائی ہو رہی ہے اور حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ حکومت کسانوں کے لیے عظیم کام کر رہی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ کسانوں کی حکومت ہے ہم کسانوں کو سہارا دینے کے لیے رائتو بندھو دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسانوں کو سبسیڈی پر بیج کی سپلائی اور ریتو بندھو اب تک نہیں ملا ہم چاہتے ہیں کہ عوام اس پر ریاستی حکومت کے وزیر سے استفادہ کریں، اس موقع پر محمد ملتانی ایم ڈی یوسف یوتھ کانگریس ضلع قاید جنرل سکریٹری راجو نایک، سابق ایم ٹی سی ناگ شیٹی سرپنچ امبو نایک سری کانت اور دیگر شامل تھے۔