کے ٹی آر ٹوئیٹر پر آر ٹی سی ہڑتال کے بارے میں خاموش: پونم پربھاکر

,

   

تلنگانہ تحریک میں آر ٹی سی ملازمین کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے کا الزام، سی پی آئی سے ٹی آر ایس کی تائید واپس لینے کی اپیل
حیدرآباد۔9۔ اکتوبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر نے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال پر کے ٹی راما راؤ کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر معمولی بات پر ٹوئیٹر کے ذریعہ اپنی رائے کا اظہار کرنے والے کے ٹی آر آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال پر خاموش ہیں۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ کے ٹی آر کا مطلب کلوا کنٹلہ تارک راما راؤ نہیں بلکہ کلوا کنٹلہ ٹوئیٹر راؤ کی حیثیت سے عوام میں مشہور ہوچکا ہے۔ ہر مسئلہ پر چاہے ضروری ہو یا نہ ہو کے ٹی آر ٹوئیٹر پر تحریر کرتے ہیں لیکن آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال پر ان کی خاموشی معنی خیز ہے۔ پونم پربھاکر نے کے ٹی آر سے سوال کیا کہ وہ ہزاروں آر ٹی سی ملازمین کے مستقبل سے متعلق ہڑتال پر اپنی خاموشی کب توڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل کے سی آر نے آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ آر ٹی سی ملازمین اپنے جائز مطالبات کی یکسوئی کا گزشتہ پانچ برسوں سے انتظار کر رہے تھے اور ناگزیر صورتحال میں انہوں نے ہڑتال کا آغاز کیا ۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ کے ٹی راما راؤ کو 50,000 آر ٹی سی ملازمین کی تکلیف اور درد دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ان کی خدمات کو برطرف کئے جانے سے ان کے خاندان سڑک پر آجائیں گے ۔ کیا اس بات کا کے ٹی آر کو احساس نہیں؟ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے جو وعدے کئے تھے،

ان کی تکمیل میں ناکام ہوچکے ہیں لیکن آج تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ وعدوں کی تکمیل میں کیا چیز رکاوٹ ہے۔ انہوں نے آر ٹی سی ہڑتال پر فوری ردعمل ظاہر کرنے کا کے ٹی آر سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں کے ٹی آر کو مداخلت کرنی چاہئے ۔ اگر وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں تو تلنگانہ عوام کی نظر میں ان کا شمار تلنگانہ کے غداروں میں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی آر ٹی سی ملازمین کے ساتھ ہے اور مسائل کی یکسوئی تک احتجاج میں شامل رہے گی۔ پونم پربھاکر نے سی پی آئی سے مانگ کی کہ وہ حضور نگر میں ٹی آر ایس کی تائید کے فیصلہ پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی کو اگر آر ٹی سی ملازمین کے مسائل سے ہمدردی ہو تو اسے ٹی آر ایس کی تائید سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے ۔ مخالف ملازمین اقدامات کرنے والے کے سی آر کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے سی پی آئی کو حضور نگر میں ٹی آر ایس کے خلاف انتخابی مہم میں حصہ لینا چاہئے ۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ سی پی آئی کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ آیا وہ ملازمین کے ساتھ ہے یا پھر ان کے خلاف اقدامات کرنے والی ٹی آر ایس حکومت کے ساتھ ہیں۔