کے ٹی آر کے بیانات آمریت اور بادشاہت کے سوچ کی عکاسی : کویتا

   

تلنگانہ جاگرتی کے امیدوار فارورڈ بلاک پارٹی کے انتخابی نشان پر مقابلہ کررہے ہیں
حیدرآباد ۔ 2 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ جاگرتی کی صدر سابق ایم ایل سی کے کویتا نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ سابق وزیر کے ٹی آر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حالیہ بیانات آمریت اور بادشاہت کے رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں ۔ بلدیاتی انتخابات میں بی آر ایس کے امیدواروں کو صرف کار کے نشان پر ووٹ دینے کی اپیل جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے ۔ کویتا نے آج تلنگانہ جاگرتی کے آفس پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کے ٹی آر چاہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں عوام برے یا نا اہل امیدواروں کو بھی ووٹ دیں ؟ انہوں نے زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات میں مذہب ، ذات پات یا پارٹی کے بجائے ۔ امیدوار کے کردار ، کارکردگی اور محنت کو بنیاد بنایا جانا چاہئے ۔ کویتا نے کہا کہ اچھے امیدوار چاہے کسی بھی پارٹی سے ہوں انہیں ووٹ ملنا چاہئے اور تلنگانہ جاگرتی کے امیدوار فاورڈ بلاک پارٹی کے انتخابی نشان پر مقابلہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے پھر ایک مرتبہ ہریش راؤ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے خفیہ مفاہمت کرچکے ہیں ۔ فون ٹیاپنگ کی تحقیقات منصفانہ اور غیر جانبداری سے ہونی چاہئے ۔ کویتا نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں ہوئے فون ٹیاپنگ کے کے کیس میں سابق چیف منسٹر کے سی آر کو طلب کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں سب کو تعاون کرنا چاہئے ۔ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے نا انصافی ہونے کا کویتا نے الزام عائد کیا ۔ انہوں نے حیدرآباد میں آتشزدگی کے واقعات اور گانجہ گینگ کے حملوں پر بھی حکومت کی مبینہ لاپرواہی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔۔ 2