گاؤں پر بندروں کا قبضہ ، دیہاتی شہر کو منتقل

   

کھمم کے نرسا پورم پر 500 بندروں کے لشکر کی یلغار سے مسائل
حیدرآباد۔/15 جنوری، ( سیاست نیوز) ضلع کھمم کے کئی دیہاتوں پر بندروں کے لشکرکی یلغار سے خوفزدہ سینکڑوں افراد شہر حیدرآباد اور دیگر مقامات کو منتقل ہوچکے ہیں لیکن چند ایسے بھی ہیں جو بندروں کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنے گھروں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ اس طرح تلنگانہ کا یہ علاقہ ہالی ووڈ کی مشہور فلم ’’ رائز آف دی پلینٹ آف دی ایپس‘‘ کی حقیقی تصویر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس فلم میں کرۂ ارض پر بندروں کا قبضہ دکھایا گیا تھا۔ تلنگانہ کے نرسا پورم کے رہنے والے اگرچہ یہ فلم نہ دیکھے ہوں لیکن اس فلم کی کہانی ان کی زندگیوں سے بڑی حد تک مشابہت و مماثلت رکھتی ہے۔ 15 سال سے اس گاؤں پر 400 تا500 بندروں کا تسلط ہے۔ نرسا پورم کے رہنے والوں کا خیال ہے کہ حیدرآباد، نظام آباد اور دیگر شہروں سے پکڑے گئے بندروں کو ان کے گاؤں میں لاکر چھوڑا گیا تھا۔نرسا پورم گاؤں کے سرپنچ شیوا راما کرشنا نے کہا کہ ابتداء میں کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ لیکن اب یہ مسئلہ سنگین ہوچکا ہے۔ ان کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہواہے۔ شیواراما کرشنانے2019 میں بندروں کا مسئلہ حل کرنے کے وعدہ پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہماری زمین زخیز ہے ، ترکاری اور پھل کی کاشت ہوتی ہے جنہیں بندرتباہ کردیتے ہیں۔ گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھی جاتی ہیںلیکن بندر یہ دروازے اور کھڑکیاں بھی کھول لیا کرتے ہیں۔‘‘ محکمہ جنگلات نے 2015 میں بندروں کو نکالنے کیلئے 30 کروڑ روپئے مالیتی منصوبہ بنایا تھا لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا۔ کئی بندروں کی قصی کی گئی تھی لیکن مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔