جاب کیلنڈر کے بجائے ، اسکام کیلنڈر نافذ ، ہر کام میں 30 فیصد کمیشن ، یہی کانگریس کی اصل گارنٹی
حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ہریش راؤ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاست میں جاب کیلنڈر کے بجائے گھوٹالوں کا کیلنڈر نافذ ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس کی گارنٹی اسکیمات صفر ہیں جب کہ گھوٹالے مکمل طور پر جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 12 ماہ کے دوران 12 گھوٹالے سامنے آئے ہیں اور ہر کام میں 30 فیصد کمیشن وصول کیا جارہا ہے ۔ یہی کانگریس کی اصل گارنٹی ہے ۔ ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ نوکریاں دینے اور جاب کیلنڈر لانے کے وعدے پر ووٹ حاصل کئے مگر حقیقت میں ’ اسکام کیلنڈر ‘ نافذ کیا گیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ جنوری میں سیول سپلائز گھوٹالہ ، فروری میں این ٹی پی سی فلائی ایشن گھوٹالہ ، مارچ میں ریت گھوٹالہ ، اپریل میں آر ٹی سی کنٹریکٹ اسکنڈل اور امرتھ ٹنڈر اسکام ، مئی ، جون میں فورتھ سٹی گھوٹالہ ، جولائی میں لگاچرلہ ، سنٹرل یونیورسٹی لینڈ ، اگست میں پی جی ؍ میڈیکل نشستیں گھوٹالہ ، ستمبر میں انڈسٹریل اراضی سے متعلق 5 لاکھ کروڑ روپئے کا ہلٹ اسکام ، اکٹوبر میں برقی نومبر میں سنگارینی دسمبر میں KLSR اسکام ہونے کا الزام عائد کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کسانوں کے مسائل پر ایک لفظ بھی نہیں کہا اور ساتھ ہی یہ بھی سوال کیا کہ جب گروکلس میں سانپ کاٹنے اور سمیت غذا سے بچوں کی اموات ہوئی تو حکومت نے خاموشی کیوں اختیار کی گئی ہے ۔ عوامی مسائل پر بات کے بجائے صرف سابق چیف منسٹر کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنانے اور الزام تراشی کی مخالفت کی ۔۔ 2