بی جے پی ایم پی وشنودت شرما کی پٹواری پر تنقید، مدھیہ پردیش میں کٹنی معاملہ پر زوردار سیاست
کٹنی، بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع کٹنی سے متعلق ایک وائرل ویڈیو کے معاملے میں ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری کی جانب سے متاثرہ خاندان کو انصاف کی مانگ کو لے کر کٹنی میں دھرنے پر بیٹھنے اور ریاستی حکومت کو گھیرنے کے ساتھ ہی اس معاملے کے حوالے سے سیاست زوروں پر ہے ۔دریں اثنا بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر اور کٹنی کے کھجوراہو حلقہ سے لوک سبھا ایم پی وشنودت شرما نے اس معاملے میں پٹواری کو گھیرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کے ریاستی صدر یہ بھول گئے ہیں کہ کانگریس میں جو گاندھی خاندان کے لیے درباری اور دلالی کرتا ہے ، صرف وہی شخص بڑے عہدوں پر پہنچ سکتا ہے ۔ ریاست میں ایک عام خاندان کے رکن اور منتخب ایم ایل اے ڈاکٹر موہن یادو وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو پٹواری کو اتنی پریشانی کیوں ہے ۔کل دیر رات ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیتو پٹواری کو بی جے پی حکومت پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ۔ کانگریس حکومت میں عوام پر کئی مظالم ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں بی جے پی حکومت میں ہرطبقہ خوشحال زندگی گزار رہا ہے اور سماج میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے ۔دراصل پٹواری کل اس معاملے کو لے کر متاثرہ خاندان سے ملنے کل کٹنی پہنچے اور اس دوران انہوں نے ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے حکومت پر دلت مخالف ہونے کا الزام لگایا۔ وہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے رات دیر گئے دھرنے پر بھی بیٹھ گئے ، جس کے کچھ دیر بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کے دباؤ میں اس معاملے میں پولس ایف آئی آر درج کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کٹنی میں ایک دلت بچے اور اس کی دادی کو بے دردی سے پیٹا جاتا ہے اور مجرموں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جاتی ہے ۔ ریاستی حکومت دلتوں سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہے اس وحشیانہ فعل کے متاثرین کو انصاف نہ ملنا حکومت کی دلت مخالف سوچ کو ظاہر کرتا ہے ۔اس کے کچھ دیر بعد انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ کٹنی میں انصاف کی لڑائی آگے بڑھ رہی ہے ۔ متاثرہ خاندان کی بات سنی جا رہی ہے ۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جا رہی ہے ۔قبل ازیں چہارشنبہ کو اس سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کل وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری ڈی آئی جی ریلوے کو سونپی اور تحقیقات کے بعد شام کو ابتدائی طور پر قصوروار پائے جانے کے بعد چھ لوگوں کو معطل کر دیا گیا تھا۔