حیدرآباد اور اضلاع میں دھرنے اور ریالیاں، وزیر داخلہ محمود علی کو یادداشت
حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ مہیلا کانگریس نے گاندھی ہاسپٹل میں 2 لڑکیوں کی مبینہ عصمت ریزی کے خلاف احتجاج منظم کیا۔ حیدرآباد میں ٹینک بنڈ کے قریب مہیلا کانگریس کی ریاستی صدر سنیتا راؤ کی قیادت میں مہیلا کارکنوں نے مجسمہ امبیڈکر کے پاس دھرنا منظم کیا جس میں عصمت ریزی کے خاطی ملازم کی گرفتاری اور عبرتناک سزا کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹل کے ملازم کو جس نے علاج کے لئے آنے والی دو لڑکیوں کے ساتھ گھناؤنا جرم کیا ہے اسے برسر عام پھانسی دی جائے تاکہ خواتین پر مظالم کے واقعات کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہر 16 منٹ میں خواتین پر مظالم کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ تلنگانہ میں خواتین اور دلتوں پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ حکومت اور پولیس کی خاموشی کے نتیجہ میں غیر سماجی عناصر کو حوصلہ مل رہا ہے۔ ٹینک بنڈ پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کی ہدایت دی جس کے بعد سنیتا راؤ نے مہیلا کانگریس کی دیگر قائدین اور کارکنوں کے ہمراہ وزیر داخلہ محمد محمود علی سے ملاقات کی اور یادداشت حوالے کی۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو پولیس کی جانب سے نرم رویہ کی شکایت کی اور کہا کہ خاطی شخص کو گرفتار کرتے ہوئے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی جائے۔ انہوں نے متاثرہ لڑکیوں کو حکومت کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر داخلہ محمود علی نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ہدایت دی جاچکی ہے کہ خاطی کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکیوں کی مدد کے سلسلہ میں وہ عہدیداروں سے بات چیت کریں گے۔ سنیتا راؤ کی اپیل پر مختلف اضلاع میں مہیلا کانگریس کی جانب سے دھرنا اور احتجاجی ریالیاں منظم کی گئیں۔ضلع کلکٹرس اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو یادداشت پیش کرتے ہوئے خواتین پرمظالم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔R
