آئی سی یو میں فوت ہونے والوں کو منتقل کرنے میں انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی
حیدرآباد۔28 اپریل (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کی نگرانی میں چلائے جانے والے گاندھی ہاسپٹل میں شریک مریضوں میں خوف و دہشت پیدا ہونے لگا ہے کیونکہ آئی سی یو میں دوران علاج فوت ہونے والے کورونا وائرس کے مریضوں کو فوری آئی سی یو سے منتقل کرنے کے بجائے انہیں وہیں اسٹریچر پر چھوڑے جانے کے سبب دیگر مریض جو کہ زیر علاج ہیں وہ خود کو نعشوں کے درمیان محسوس کر رہے ہیں ۔ دونوں شہر و ں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ہزار وں مریض اب کورونا وائرس کے علاج کے لئے مخصوص گاندھی ہاسپٹل میں زیر علاج ہیںان مریضوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا اور کئی گھنٹوں تک مریضوں کے بستروں سے متصل بستروں اور اسٹریچرس پر فوت ہونے والوں کی نعشوں کو چھوڑ دیئے جانے کے سبب آکسیجن پر موجود مریضوں میں خوف پیدا ہونے لگا ہے۔فوت ہونے والوں کو منتقل کرنے والے دواخانہ کے عملہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ناکافی عملہ اور تین علحدہ علحدہ شفٹوں میں مسلسل کام کے سبب اس طرح کی کوتاہیاں ہورہی ہیں اور اس بات سے وہ انکار نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں عملہ کی قلت کو دور کرتے ہوئے نیم طبی عملہ کے علاوہ دیگر عملہ کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں۔ دواخانہ میں موجود ایک خاتون مریض جو کہ ورنگل سے تعلق رکھتی ہیں نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ گاندھی ہاسپٹل انہیں منتقل کرنے کے بعد آئی سی یو میں زیر علاج رکھا گیا ہے لیکن آئی سی یو میں گذشتہ دو یوم کے دوران ہونے والی اموات اور نعشوں کو کئی گھنٹوں تک آئی سی یو میں ہی رکھے جانے کے سبب انہیں اختلاج کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس بات کی شکایات ڈیوٹی پر موجود عملہ سے کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ کہا جا رہاہے کہ سرکاری دواخانہ میں اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ گاندھی ہاسپٹل میں ہونے والی اموات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ جو اموات ریاستی حکومت کے بلیٹن میں دکھائی جا رہی ہیں ان سے کئی زیادہ اموات صرف گاندھی ہاسپٹل میں ریکارڈ کی جا رہی ہیں اور ان حالات میں اگر دواخانہ میں شریک مریضوں میں خوف و دہشت کا عالم پیدا ہونے لگتا ہے تو ایسی صورت میں مریضوں سے زیادہ دواخانہ میں شریک لوگ خوف اور اختلاج کے سبب فوت ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے دواخانہ کے انتظامیہ کو دوران علاج فوت ہونے والوں کو فوری مردہ خانہ منتقل کرنے یا پھر مریضوں کے درمیان سے ہٹانے کے اقدامات کو یقینی بنایا چاہئے۔ریاست میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور اموات سے پہلے ہی لوگ خوف زدہ ہیں ۔ ان حالات میں اگر دواخانوں میں موثر و مناسب انتظامات نہ کرنے سے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے ۔