گجرات ، ہماچل پردیش اور کرناٹک اسمبلی انتخابات کے بعد لوک سبھا تحلیل

,

   

عام انتخابات کی راہ ہموار کرنے مرکزی حکومت کی منصوبہ بندی ،تلنگانہ میں بھی وسط مدتی انتخابات کیلئے بی جے پی کی سازش

حیدرآباد۔27۔نومبر(سیاست نیوز) 17 ویںلوک سبھا اپنی معیاد مکمل نہیں کر ے گی بلکہ موجودہ مودی حکومت وسط مدتی انتخابات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے!مرکزی حکومت گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی کے علاوہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت تحلیل کرتے ہوئے عام انتخابات کی راہ ہموار کرنے کی متعلق منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ وسط مدتی عام انتخابات کے سلسلہ میں جاری منصوبہ بندی میں وزیر اعظم کا کلیدی کردار ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں کسی اور سیاسی جماعت کو عام انتخابات کے لئے تیار ہونے کا موقع دینے کے بجائے مئی 2024کے بجائے ستمبر یا ڈسمبر2023 کے درمیان ملک میں عام انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے اور اسی منصوبہ کا اندازہ لگاتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی ریاست میں عاجلانہ انتخابات کے متعلق غور کرنا شروع کرچکی ہے۔ تلنگانہ کی معیاد کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے گذشتہ دنوں منعقدہ اجلاس کے دوران واضح کیا تھا ریاست میں انتخابات اپنے معینہ وقت پر ہوں گے لیکن چند دن بعد ہی تیزی سے سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ کے علاوہ چیف منسٹر کی جانب سے اسمبلی کا اجلاس طلب کئے جانے اور ضلع کلکٹرس کا اجلاس طلب کرنے اور تمام محکمہ جات کے ذمہ دار وزراء کو کارکردگی کو بہتر بنائے جانے کی تاکید و ہدایات کے بعد کہا جا رہاہے کہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات اور عام انتخابات کو علحدہ علحدہ منعقد کرنے کی کوشش کے طور پر وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کی پیش قیاسی کی جانے لگی ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے منصوبہ کے مطابق مرکزی حکومت ڈسمبر 2023 سے قبل پارلیمنٹ کی تحلیل کے ذریعہ وسط مدتی انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے جبکہ ریاستی حکومت ڈسمبر 2023 میں تلنگانہ اسمبلی کے معیاد کی تکمیل تک انتظار کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق گجرات‘ ہماچل پردیش اور کرناٹک کے نتائج کے ساتھ مرکزی حکومت 17ویں لوک سبھا کی معیاد کے سلسلہ میں فیصلہ کرسکتی ہے اور اگر ریاست تلنگانہ میں کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل تحلیل کا فیصلہ نہیں کیاجاتا ہے اور مرکز کرناٹک انتخابات کے فوری بعد تحلیل کا فیصلہ کرتا ہے تو ایسی صورت میں عام انتخابات اور تلنگانہ اسمبلی انتخابات دونوں مشترکہ طور پر منعقد ہوسکتے ہیں اور عام انتخابات کی صورت میں ملک بھر میں قومی مسائل انتخابات پر چھائے رہنے کے سبب بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کا بھر پور فائدہ حاصل ہوگا ۔ ریاست تلنگانہ میں گذشتہ اسمبلی انتخابات کو قبل از وقت منعقد کرنے کی بنیادی وجہ یہی تھی کیونکہ عام انتخابات کے ساتھ ریاستی اسمبلی کے انتخابات منعقد کئے جانے کی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو استحکام حاصل ہونے کا خدشہ تھا اور ان خدشات کے پیش نظر ہی تلنگانہ راشٹر سمیتی نے قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کرتے ہوئے تلنگانہ اسمبلی میں بی جے پی کا عملی طور پر صفایا کردیا تھا لیکن جب 8ماہ بعد عام انتخابات منعقد ہوئے تو ایسی صورت میں تلنگانہ میں بی جے پی کو 4 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ 2018 اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو صرف گوشہ محل اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی اسی انتخابی حکمت عملی کو اب بی جے پی اختیار کرتے ہوئے ایک تیر سے کئی نشان کی تیاری میں مصروف ہے اور کہا جارہا ہے کہ راہول گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے سبب ماحول میں پیدا ہورہی تبدیلیوں سے نمٹنے کے علاوہ جنوبی ہند کی ریاستو ںمیں اپنے حلقہ اثر کو مضبوط کرنے کے لئے بی جے پی عاجلانہ انتخابات کو یقینی بنانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر مرکزی حکومت کرناٹک اسمبلی انتخابات کے بعد عام انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی تحلیل کے اقدامات کرتی ہے تو ایسی صورت میں ڈسمبر 2023 میں ریاست تلنگانہ کے علاوہ چھتیس گڑھ ‘ مدھیہ پردیش ‘ میزورم اور راجستھان اسمبلی کے انتخابات عام انتخابات کے ساتھ منعقد کئے جاسکتے ہیں جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے سازگار ماحول کا سبب بن سکتے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس سازش کا شکار ہونے کے بجائے وسط مدتی انتخابات کی راہ ہموار کرتے ہوئے مئی 2023 میں منعقد ہونے والے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے ساتھ تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں وسط مدتی انتخابات کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے فوری بعد اچانک شروع ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت بھی انتخابات کے لئے ذہن بنا چکی ہے اور ماہ جنوری میں ریاستی سیکریٹریٹ کی نوتعمیر شدہ عظیم الشان عمارت کے افتتاح کے فوری بعد انتخابی سرگرمیاں شروع ہونے کا امکان ہے لیکن ساتھ ہی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے وسط مدتی پارلیمانی انتخابات کی منصوبہ بندی کا بھی فوری اعلان کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں الیکشن کمیشن آف انڈیا ریاست تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات کو کچھ مدت کے لئے ٹالنیکے اقدامات بھی کرسکتا ہے اسی لئے وہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ کرناٹک کے ساتھ ہی تلنگانہ کے انتخابات کی راہ ہموار کی جائے جبکہ ذرائع کا کہناہے کہ اگر تلنگانہ اسمبلی کی تحلیل کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کرناٹک اور تلنگانہ کے دونوں ہی انتخابات کو مزید چند ماہ کے لئے ٹالنے کی قانونی گنجائش نکالتے ہوئے صدر راج نافذ کیا جاسکتاہے۔م