گجرات حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے بلقیس بانو کے 11 قصورواروں کو معافی دینے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معافی کی پالیسی کے تحت ان کو معافی اس لیے دی گئی کیونکہ انہوں نے 14 سال قید کی سزا پوری کر لی تھی اور ان کا رویہ اچھا پایا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ تیسری پارٹی اس معاملے میں مقدمہ درج نہیں کر سکتی۔ سبھاشنی علی کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی درخواست سیاسی طور پر محرک ہے، ایک سازش ہے۔ تاہم اس معاملے پر منگل کو دوبارہ سماعت ہوگی۔