نئی دہلی: حکومت گجرات نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہیکہ اس نے عدالت کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے ریاست میں پیش آئے 2002ء کے فسادات کے دوران گینگ ریپ کی شکار بلقیس بانو کو 50 لاکھ روپئے ادا کردیئے اور نوکری بھی فراہم کی گئی ہے۔ بلقیس نے عدالت عظمیٰ میں درخواست پیش کرتے ہوئے اس سلسلہ میں اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا جس پر عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایات جاری کئے تھے۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے ریاستی حکومت کی پیروی کرتے ہوئے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس بی راماسبرامنیم کی بنچ کو بتایا کہ بلقیس کی عرضی غلط فہمی کی بناء داخل کردی گئی۔ بلقیس نے ایڈوکیٹ شوبھا گپتا کے ذریعہ بیان کیا تھا کہ ریاستی حکومت نے عدالت عظمیٰ کے حکمنامہ کی ٹھیک ڈھنگ سے تعمیل نہیں کی ہے۔ معاملہ کی مختصر سماعت کے بعد بنچ نے ایک ہفتے بعد دوبارہ سماعت مقرر کی۔ رہائش گاہ کی فراہمی کے تعلق سے بلقیس نے کہا تھا کہ حکومت نے صرف 50 مربع میٹر اراضی دی ہے جو گارڈن ایریا کے زون میں درج ہے اور اسے محکمہ آبپاشی نے کنٹراکٹ کی اساس پر پیون کی نوکری کی پیشکش کی گئی ہے۔ 30 ستمبر کو سپریم کورٹ نے حکومت گجرات کو حکم دیا تھا کہ بلقیس بانو کو 50 لاکھ روپئے اندرون دو ہفتے ادا کئے جائیں۔
تین محوخواب بہنوں پر بھائی نے ایسیڈ پھینکا
گوندا: اترپردیش کے ضلع گوندا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں تین بہنوں کو ان کے بھائی نے ایسیڈ حملے کا شکار بنایا۔ پولیس نے بتایا کہ تینوں بہنیں اپنے مکان کے سیکنڈ فلور پر سو رہی تھیں کہ ان کا بھائی کھلی کھڑکی سے اندر آیا اور ایسیڈ پھینکا۔ تینوں بہنیں زیرعلاج ہیں۔
