دوسری پوزیشن والی طالبہ کو ایوارڈ دئے جانے سے تقریب کا آغاز، مذہبی امتیاز برتنے کا الزام
احمد اآباد: مذہب کی بنیاد پر جان بوجھ کر امتیازی سلوک کے معاملے میں شری کے ٹی پٹیل اسمرتی ودیالیہ، مہسانہ ضلع کے لنوا گاؤں میں واقع ایک اسکول نے اپنے اسٹار طالب علم کو اعزاز دینے سے انکار کردیا۔ارناز بانو نے اپنے امتحانات میں 87 فیصد نمبر حاصل کرنے کے باوجود انہیں دوسروں کے ساتھ پہچانا نہیں گیا۔ تاہم دوسرے رینکرز اور اس سے کم نشانات حاصل کرنے والوں کو ایوارڈ دئیے گئے تفصیلات کے مطابق گجرات کے کھیڑا اسکول میں ٹاپر کے طور پر ابھرنے والی ایک لڑکی کو مبینہ طور پر 15 اگست کو یوم آزادی کی تقریب میں جب ارناز بانو اپنے اسکول کی طرف سے پہنچی تو انہیں توقع تھی کہ وہ سب سے پہلے اسٹیج پر بلائی جائے گی۔کیوں کہ و ہ10 دسویں جماعت میں %87 کے اسکور کے ساتھ ٹاپر تھیںلیکن انہیں نظر انداز کردیا گیا۔ سنور خان نے کہاکہ انہوں نے اسکول کے حکام اور اساتذہ سے وضاحت طلب کی، لیکن ان کے جوابات مبہم تھے۔ اگرچہ وہ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ انعام 26 جنوری کو دیا جائے گاارناز کے والدین نے الزام لگایا ہے کہ اسکول کے حکام نے مذہبی امتیاز ہے۔ارناز کو اس لیے مبارکباد نہیں دی گئی کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور یہ گجرات ہے۔ ہمیں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم اسلام کی پیروی کرتے ہیں۔