عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، وقف بورڈ کی اجازت کے باوجود انہدامی کارروائی کی کوشش پرمسلمان ناراض
حیدرآباد۔/25 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات کی آڑ میں گدوال ضلع میں بلدی عہدیداروں کی جانب سے وقف اراضی کے معاملہ میں مداخلت نے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ درگاہ حضرت سید شاہ معروف پیر قادریؒ کے تحت مختلف سروے نمبرات میں جملہ 39.10 ایکر وقف اراضی موجود ہے۔ وقف بورڈ نے 6 اکٹوبر 2023 کو متولی سید یعقوب محی الدین کو وقف اراضی پر کمرشیل کامپلکس کی تعمیر کی اجازت دی تاکہ وقف اراضی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آمدنی میں اضافہ ہو۔ تعمیری کاموں کے آغاز کے ساتھ ہی مقامی سیاسی قائدین نے بلدی عہدیداروں پر دباؤ بناتے ہوئے تعمیری کاموں میں نہ صرف رکاوٹ پیدا کی بلکہ انہدامی کارروائی انجام دی۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی سیاسی قائدین کی وقف اراضی پر نظریں ہیں۔ وقف بورڈ نے اپنے میمو کے ذریعہ متولی کو شرائط کی بنیاد پر ملگیات کی تعمیر کی اجازت دی ہے۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ تعمیرات کیلئے جو منصوبہ پیش کیا گیا تھا اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ وقف بورڈ نے 27 ستمبر کے اجلاس میں قرارداد نمبر 4 کے تحت تعمیری کاموں کی اجازت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ متولی نے جیسے ہی ملگیات کے تعمیری کاموںکا آغاز کیا بلدی عہدیداروں نے رکاوٹ پیدا کردی۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف اراضی کے بارے میں عدالت کے واضح احکامات کے باوجود میونسپل کمشنر اور ان کا ماتحت عملہ رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔ بلدی حکام کے اس رویہ سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سروے نمبر 1012 کے تحت 20 گنٹے اراضی پر ترقیاتی منصوبہ کے تحت شاپنگ کامپلکس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بلدی عہدیداروں کو اراضی کی تفصیلات اور وقف بورڈ کے اجازت نامہ سے واقف کرانے کے باوجود وہ مسلسل رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تعمیری کاموں کے سلسلہ میں بلدی عہدیداروں سے اجازت حاصل کرلی گئی ہے اور ضلع کلکٹر ، آر ڈی او اور تحصیلدار تفصیلات سے بخوبی واقف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں کے رویہ سے وقف اراضی کے تحفظ پر شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ مقامی مسلمانوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ وقف بورڈ کی اراضی میں حکام کی مداخلت کو روکا جاسکے۔