گروپ I پریلمس امتحانات میں خامیوں پر تلنگانہ ہائیکورٹ کا اعتراض

   

حیدرآباد 22 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے گروپ I پریلمس امتحانات منسوخ کرنے سے متعلق درخواستوں کی آج سماعت کی۔ درخواست گذاروں نے پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے کئی اہم اُمور میں کوتاہی کی شکایت کی۔ درخواست گذاروں نے بتایا کہ امیدواروں کے بائیو میٹرک حاصل نہیں کئے گئے اور او ایم آر شیٹ پر ہال ٹکٹ اور فوٹو چسپاں نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ ہائیکورٹ نے پبلک سرویس کمیشن کے وکیل سے دریافت کیاکہ OMR شیٹ پر ہال ٹکٹ نمبر اور امیدواروں کے فوٹو چسپاں کیوں نہیں کئے گئے۔ اِس کے علاوہ امیدواروں کے بائیو میٹرک حاصل کیوں نہیں کئے گئے۔ عدالت نے کہاکہ اکٹوبر میں جو خامیاں رہ گئی تھیں اُنھیں دوسری مرتبہ امتحان کے موقع پر درست کیوں نہیں کیا گیا۔ عدالت نے امتحانات کے شفافیت کے ساتھ انعقاد کے لئے اقدامات سے متعلق سوال کیا۔ کمیشن کے وکیل نے امتحانات کی تیاریوں کی تفصیلات بیان کیں اور کہاکہ گروپ I پریلمس کے انعقاد پر کسی بھی امیدوار نے اعتراض نہیں جتایا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ OMR پر فوٹو چسپاں کرنے کے لئے کمیشن کو 1.50 کروڑ کا اضافی خرچ آئے گا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ آدھار کو بطور شناختی کارڈ تسلیم کیا گیا۔ عدالت نے کہاکہ امتحانات کے انعقاد کے لئے اضافی خرچ سے زیادہ اہمیت اِس بات کی ہے کہ امتحانات مکمل شفافیت کے ساتھ منعقد کئے جائیں اور اِس کی ذمہ داری پبلک سرویس کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے دریافت کیاکہ امتحان کے لئے امیدواروں سے فیس حاصل کی جارہی ہے یا نہیں۔ عدالت نے پبلک سرویس کمیشن کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے نوٹس جاری کی ہے۔ 3 ہفتے بعد دوبارہ سماعت مقرر کی گئی۔ ر