گروپ I کیلئے عمر کی حد 44 سے 49 کرنے ہائی کورٹ میں درخواست

   

جسٹس وجئے سین ریڈی نے حکومت کو جائزہ لینے کی ہدایت دی،فیصلہ کیلئے چار ہفتوں کی مہلت
حیدرآباد۔4۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے بیروزگار نوجوانوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے حکومت اور تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ گروپ I کیلئے عمر کی حد کو 44 سے بڑھاکر 49 کرنے پر غور کرے ۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے یہ فیصلہ سنایا۔ حکومت کو اس سلسلہ میں فیصلہ کرنے کیلئے تین ہفتوںکی مہلت دی گئی ہے۔ اے وینکنا اور پانچ دیگر افراد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر جسٹس وجئے سین ریڈی نے عبوری احکامات جاری کئے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے اپیل کی کہ عمر کی حد میں اضافہ کیلئے حکومت کو پابند کیا جائے تاکہ گروپ I امتحانات میں زائد امیدواروں کو شرکت کا موقع ملے۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران گروپ I کے تحت تقررات کیلئے کوئی اعلان جاری نہیں کیا جس کے نتیجہ میں امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا اور کئی امیدوار عمر میں اضافہ کے باعث اس موقع سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوچکے ہیں۔ زندگی میں ایک مرتبہ گروپ I امتحان میں شرکت کا موقع دینے کیلئے عمر کی حد میں پانچ سال کی رعایت دی جائے۔ اس سلسلہ میں پبلک سرویس کمیشن کے حکام سے تحریری نمائندگی کی جاچکی ہے۔ درخواست گزاروں نے بتایا کہ عمر کی حد میں اضافہ کیلئے گزشتہ چار برسوں سے نمائندگی کی جارہی ہے۔ پبلک سرویس کمیشن نے 44 سال کی حد مقرر کی جبکہ ٹاملناڈو اور دیگر ریاستوں میں رعایت دی گئی۔ عدالت نے حکومت اور دیگر اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت سے کہا کہ وہ درخواست گزاروں کی درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے عمر کی حد کو 49 سال مقرر کرنے کا جائزہ لیں ۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت 17 جون کو ہوگی۔ ر