گروگرام : درجن بھر گاڑیوں میں توڑ پھوڑ، دکانیں نذرآتش، گھرو ں میں پڑھی گئی نماز جمعہ

,

   

گروگرام : ہریانہ کے نوح میں 31 جولائی کو تشدد کے بعد سیکورٹی پوری ریاست میں سخت کر دی گئی ہے۔ خصوصاً میوات کے علاقہ اور گروگرام میں جگہ جگہ سیکورٹی اہلکار گشت لگاتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ جمعہ کے روز کرفیو کے دوران تشدد متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں نے مارچ کیا اور علاقے کے حالات کا جائزہ لیا۔ اس دوران خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ گروگرام کے بادشاہ پور علاقہ میں شورش پسندوں نے ایک ناریل کی دکان میں آگ لگا دی۔ اس سے نزدیک میں ہی بجلی کے کئی فیڈر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی کٹ گئی ہے اور لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔گروگرام کے بسئی روڈ پر بھی حالات کشیدہ ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بسئی روڈ واقع بھوانی انکلیو میں تقریباً ایک درجن گاڑیوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ کچھ ویڈیوز اور تصویریں سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں جس میں گاڑیوں کے شیشے توڑتے ہوئے شر پسندوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق علی الصبح اس واردات کو انجام دیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید دو نوجوان توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔اس درمیان نمازِ جمعہ میں آج نوح اور گروگرام کے کئی مساجد میں سناٹا پسرا رہا۔ حالات کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہونے پر لوگوں نے گھروں میں ہی نماز پڑھنے کو ترجیح دی۔ گروگرام کے لیجر ویلی میدان میں بھی سناٹا چھایا رہا جہاں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے اور اس کے لیے لوگ 12.30 بجے سے ہی جمع ہونا شروع ہو جاتے تھے۔ تشدد کے بعد اس علاقہ میں بھی خوف کا ماحول ہے اور لیجر ویلی میدان کے چاروں طرف پولیس تعینات ہے۔پولیس نے ہریانہ میں تشدد کے ملزمان کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ اب تک 5 اضلاع میں 93 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ 176 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ صرف نوح میں 46 ایف آئی آر درج ہیں۔ نوح میں پیر کو نکالی گئی یاترا کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔ اس کے علاوہ نوح کے ایس پی ورون سنگلا کا بھی تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ورون سنگلا جلوس سے پہلے ہی چھٹی پر چلے گئے تھے۔ ان کی جگہ نریندر بجارنیا نئے ایس پی ہوں گے۔پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی 2300 ویڈیوز کی نشاندہی کی ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ ان ویڈیوز نے تشدد بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہریانہ پولیس نے نوح میں 46، فرید آباد میں 3، گروگرام میں 23، پلول میں 18 اور ریواڑی میں 3 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر 176 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔نوح میں کرفیو جاری ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ بھی بند ہے۔ نوح کے علاوہ فرید آباد، پلول، سوہنا، پٹودی اور گروگرام کے مانیسر میں انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نوح، سوہنا اور گروگرام میں مسلمانوں نے گھر پر نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔برج منڈل یاترا 31 جولائی کو ہریانہ کے میوات نوح میں نکالی گئی تھی ، جس میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے تھے، جس کے بعد نوک جھونک ہوئی، پھر سنگ با ری ہونے لگی ، جس کے بعد کچھ ہی دیر میں یہ دونوں برادریوں کے درمیان تشدد میں بدل گیا۔ سینکڑوں کاروں کو آگ لگا دی گئی۔ سائبر پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر بھی حملہ کیا۔ نوح کے بعد سوہنا میں بھی پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی۔ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس کے بعد تشدد کی آگ نوح سے فرید آباد۔گروگرام تک پھیل گئی۔ نوح تشدد میں دو ہوم گارڈز سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔