گریجویٹ زمرہ کی حیدرآباد نشست کیلئے ٹی آر ایس میں دعویداروں کی سرگرمیاں

   


کھمم نشست کیلئے پی راجیشور ریڈی کی انتخابی مہم کا آغاز

حیدرآباد۔ گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے اندرون ایک ہفتہ اعلامیہ کی اجرائی کا امکان ہے تاہم برسر اقتدار ٹی آر ایس میں ٹکٹ کیلئے دعویداروں کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ ورنگل ، کھم اور نلگنڈہ اضلاع کے علاوہ حیدرآباد، رنگاریڈی اور میدک اضلاع پر مشتمل ایم ایل سی نشستوں کا الیکشن توقع ہے کہ مارچ میں منعقد ہوگا۔ ٹی آر ایس نے ورنگل، کھمم اور نلگنڈہ نشست کیلئے پی راجیشور ریڈی کو دوبارہ امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔ راجیشور ریڈی نے حلقہ میں اپنی انتخابی مہم کا پہلے ہی آغاز کردیا ہے اور ان کے نام کا اعلان محض رسمی رہے گا۔ حیدرآباد، رنگاریڈی، محبوب نگر نشست کیلئے 6 سے زائد قائدین نے اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کے پاس دعویدار پہنچ چکے ہیں اور کامیابی کے دعوے کررہے ہیں۔ اس نشست کیلئے گریٹر حیدرآباد کے میئر بی رام موہن نے اپنی دعویداری پیش کی تھی لیکن بتایا جاتا ہے کہ بلدیہ کے میئر کے عہدہ پر اپنی اہلیہ سری دیوی یادو کو منتخب کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو چرلہ پلی ڈیویژن سے منتخب ہوئی ہیں۔ رام موہن نے اپنی اہلیہ کیلئے اپنی دعویداری کو ترک کردیا ہے۔ وہ 2023 میں اوپل اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے کسی قائد کو امیدوار بنائے جانے کا امکان ہے کیونکہ دیہی علاقوں کے ووٹ سابق میں فیصلہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ دونوں ایم ایل سی حلقوں کے موجودہ ارکان کی میعاد 29 مارچ کو ختم ہورہی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے دونوں حلقوں کی فہرست رائے دہندگان کو قطعیت دینے کا کام مکمل کرلیا ہے۔ حیدرآباد ضلع میں 1.40 لاکھ، رنگاریڈی 1.27 لاکھ اور محبوب نگر میں 1.16 لاکھ رائے دہندے ہیں۔ حیدرآباد میں زائد تعداد کے باوجود رائے دہی کا فیصد اکثر 40 تا 50 فیصد درج کیا گیا۔ ٹی آر ایس دونوں حلقوں میں کامیابی کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔