کانگریس کور کمیٹی کا اجلاس ، ٹکٹ کیلئے درخواستوں کی طلبی، عوامی مسائل پر احتجاج کا اعلان
حیدرآباد: تلنگانہ کانگریس کور کمیٹی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ عوامی مسائل کے سلسلہ میں ریاست میں ایجی ٹیشن کے منصوبہ کو قطعیت دی گئی ۔ کانگریس کور کمیٹی کا اجلاس آج گاندھی بھون میں منعقد ہوا۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور ایم پی کے علاوہ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی ، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، اے آئی سی سی سکریٹریز بوس راجو ، سرینواس کرشنن ، ومشی چند ریڈی ، سمپت کمار ، چنا ریڈی ، رکن کونسل جیون ریڈی ، رکن اسمبلی جگا ریڈی ، ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر ، کسم کمار ، سابق صدور پردیش کانگریس وی ہنمنت راؤ ، پونالہ لکشمیا ، سابق سی ایل پی لیڈر جانا ریڈی ، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا ، رکن اسمبلی سیتکا ، سکریٹری اے آئی سی مدھو یاشکی گوڑ کے علاوہ دیگر قائدین نے شرکت کی ۔ اجلاس میں گریٹر انتخابات پر وسیع مباحث ہوئے۔ اتم کمار ریڈی کے مطابق گریٹر انتخابات پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی اور کانگریس پارٹی کو کارپوریشن میں برسر اقتدار لانے کیلئے قائدین نے متحدہ مساعی کا عہد کیا ۔ پارٹی نے 50 فیصد ٹکٹ بی سی طبقات کے امیدواروں کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی سی تحفظات کے سلسلہ میں عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں بی سی طبقات کی آبادی کے مطابق تحفظات فراہم نہیں کئے گئے ، لہذا کانگریس پارٹی سیاسی اور قانونی جدوجہد کرے گی ۔ 7 نومبر کو تلنگانہ میں خواتین اور دلتوں پر مظالم کے خلاف اندرا پارک پر دھرنا منظم کیا جائے گا۔ حکومت کی مخالف کسان پالیسیوں کے خلاف 11 نومبر کو کھمم میں کسانوں کی ٹریکٹر ریالی منظم کی جائے گی۔ 12 نومبر کو تمام ضلع ہیڈکوارٹرس پر کسانوں کے حق میں دھرنا دیا جائے گا اور اعلیٰ عہدیداروں سے نمائندگی کی جائے گی ۔ کور کمیٹی نے گریٹر حیدرآباد انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمندوں سے درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عام زمرہ کی نشستوں کے لئے 10,000 روپئے اور محفوظ نشستوں کیلئے 5000 روپئے ادا کرنے ہوں گے۔ درخواست کے ساتھ یہ رقم بذریعہ چیک ادا کی جائے گی ۔ پارٹی نے باریک دھان کے لئے کسانوں کو 2500 روپئے فی کنٹل اقل ترین امدادی قیمت کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کسانوں کے حق میں ایجی ٹیشن کے لئے مستقل طور پر کمیٹی قائم کی جائے گی۔ کور کمیٹی نے دوباک کے ضمنی چناؤ میں پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لینے والے تمام قائدین سے اظہار تشکر کیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاست میں عوام کو درپیش مسائل پر احتجاج کے لئے سب کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ پارٹی نے کہا کہ پسماندہ طبقات کیلئے گریٹر حیدرآباد میں 50 فیصد نشستیں مختص کی جانی چاہئے تھی ۔ حکومت نے بی سی طبقہ کیلئے 33 فیصد نشستیں مختص کی ہیں جبکہ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے 8 فیصد نشستیں الاٹ کی گئی ہیں۔ مانکیم ٹیگور نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ آپسی اختلافات فراموش کرتے ہوئے 2023 ء میں تلنگانہ میں کانگریس کو برسر اقتدار لانے کے مقصد کے تحت کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف عوام میں بڑھتی ناراضگی کے پیش نطر تلنگانہ میں کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے امکانات روشن ہیں۔