گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں دو بچوں کی شرط برقرار

   

لمحہ آخر میں حکومت تجویز سے دستبردار، مقابلہ کے خواہشمندوں کو مایوسی

حیدرآباد: ٹی آر ایس حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں 2 سے زائد بچے کی شرط کو برقرار رکھا ہے۔ میونسپل کارپوریشن ایکٹ نے ترمیم کیلئے اسمبلی اور کونسل کے خصوصی اجلاس سے قبل سرکاری ذرائع نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ دیگر ترمیمات کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے دو بچوں کی شرط کو ختم کردیا جائے گا ۔ ٹی آر ایس کے اندرونی حلقوں کے علاوہ حلیف جماعت کی جانب سے طویل عرصہ سے یہ مانگ کی جارہی تھی۔ گریٹر حیدرآباد میں بعض کارپوریٹرس گزشتہ چار برسوں سے زائد بچوں سے متعلق مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ انتخابات سے عین قبل مقابلہ کے خواہاں افراد کو توقع تھی کہ حکومت دو بچوں کی شرط ختم کرتے ہوئے ہر ایک کو الیکشن میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرے گی۔ اسمبلی اجلاس سے عین قبل حکومت نے اس تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی۔ 2016 بلدی انتخابات میں مقابلہ کے خواہشمندوں کے لئے دو بچوں کی شرط لاگو کی گئی تھی جو مجوزہ بلدی انتخابات میں برقرار رہے گی۔ اسمبلی اجلاس میں حکومت نے بلدی قانون کو منظوری دیتے ہوئے بعض ترمیمات کی ہیں۔ اجلاس کے بعد کئی افراد کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ میونسپلٹیز اور پنچایت راج سے متعلق 2018 اور 2019 ء کے قوانین میں انتخابات میں حصہ لینے والوں کو دو بچوں کی شرط سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میں اس ترمیم کی تیاری کرلی تھی لیکن چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے منعقدہ عہدیداروں کے اجلاس میں ترمیم سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے بی جے پی اور دیگر پارٹیوں کی جانب سے حکومت پر تنقیدوں سے بچنے کیلئے دو بچوں کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا تھا کہ مجلس کو فائدہ پہنچانے کیلئے حکومت یہ ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے چار کارپوریٹرس کو دو سے زائد بچے رکھنے پر رکنیت سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ 2009 ء کی دفعہ 21B کے تحت 2 سے زائد بچے پائے جانے پر منتخب کارپوریٹرس کو نااہل قرار دینے کی گنجائش موجود ہے ۔ بعض معاملات عدالتوں میں زیر دوران ہیں۔ بلدی انتخابات سے قبل تقریباً تمام سیاسی جماعتوں میں ٹکٹ کے خواہشمندوں کی سرگرمیاں عروج پر تھیں اور ان میں سے بیشتر وہ تھے ، جنہیں دو بچوں کی شرط کے خاتمہ کا یقین تھا ۔ اب جبکہ حکومت نے اس شرط کو برقرار رکھا ہے ، لہذا کئی خواہشمند امیدوار مایوس ہوچکے ہیں ۔