فی الحال60 فیصد بسیں چلائی جارہی ہیں۔ مزید 1000 بسیں دستیاب رکھنے کا منصوبہ
حیدرآباد : تلنگانہ آر ٹی سی نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں سٹی بسوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کو مزید مؤثر خدمات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کورونا کی وجہ سے جو نقصانات ہوئے ہیں اس سے باہر نکلنے اور آمدنی کی راہیں تلاش کرنے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کی ہے۔ فی الحال گریٹر حیدرآباد میں 60 فیصد بسیں چل رہی ہیں۔ 20 جنوری کے بعد مکمل سطح پر تمام بسوں کی خدمات بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کورونا سے قبل حیدرآباد کی آر ٹی سی بسوں میں 33 لاکھ لوگ سفر کیا کرتے تھے۔ کورونا بحران اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد 4 ماہ تک آر ٹی سی بسیں ڈپوز تک محدود تھیں اس کے بعد کوویڈ کے قواعد پر عمل آوری کرتے ہوئے 50 فیصد بسیں چلائی جارہی ہیں۔ تعلیمی اداروں، تجارتی و کمرشیل سرگرمیاں پوری طرح بحال نہ ہونے کی وجہ سے توقع کے مطابق بسوں میں مسافرین کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا لیکن گذشتہ دو ہفتوں سے مسافرین کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے اسی تناسب میں آر ٹی سی بسوں کی خدمات میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ فی الحال گریٹر حیدرآباد میں 2750 بسیں موجود ہیں مگر 1650 یعنی 60 فیصد بسیں چلائی جارہی ہیں۔ ہر دن 16 تا 17 لاکھ مسافرین ان بسوں میں سفر کررہے ہیں۔ سنکرانتی کے بعد مسافرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اسی مناسبت سے بسوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ مسافرین کو مکمل خدمات فراہم کرنے کیلئے گریٹر حیدرآباد میں 7 ہزار آر ٹی سی بسوں کی ضرورت ہے۔ ایک سال قبل تک گریٹر آر ٹی سی میں 3750 بسیں تھیں۔ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے پیش نظر 1000 بسوں میں کمی کی گئی تھی۔ تب سے گریٹر حیدرآباد میں 2750 سرویسیس چلائی جارہی ہیں۔ بسوں کی تعداد میں اضافہ کرنے سے مسافرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا مگر نقصانات کے پیش نظر آر ٹی سی دلیرانہ فیصلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ تاہم نئے سال میں حکومت کے تعاون سے 1000 نئی بسیں عوام کیلئے دستیاب رکھنے کی تجویز تیار کی ہے۔ جاریہ سال کے اواخر تک مسافرین کی تعداد 40 لاکھ تک بڑھانے کا نشانہ مختص کرتے ہوئے اقدامات کررہی ہے۔ نقصانات کو گھٹا کر آمدنی بڑھانے کی تمام گنجائشوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس کیلئے آر ٹی سی کے ریٹائرڈ ملازمین کی تجاویز بھی حاصل کررہی ہے۔ بھیڑبھاڑ والے علاقوں میں بسوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ روٹس کی تعداد میں ابھی اضافہ کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔
