گریٹر حیدرآباد میں نالوں کی ترقی اور غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کی مہم

   

علحدہ کارپوریشن کی تشکیل، قرض کے حصول کے ذریعہ ڈرینج سسٹم کو ترقی دی جائے گی
حیدرآباد: حکومت نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں نالوں کی ترقی اور سیلاب کی صورت میں آبادیوں کو زیر آب آنے سے بچانے کیلئے نالہ ڈیولپمنٹ پلان کے نام سے باقاعدہ ادارہ قائم کیا ہے ، جس کے تحت 14300 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اسٹریٹیجک نالہ ڈیولپمنٹ پلان کے ذریعہ مستقبل میں گریٹر حیدرآباد کو سیلاب اور بارش کی تباہ کاریوں سے بچانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ فنڈس کی کمی کے باعث ریاستی حکومت اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نالہ پراجکٹ کے لئے بھاری رقم الاٹ کرنے سے قاصر ہیں۔ لہذا حکومت نے نئے کارپوریشن کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو اس پراجکٹ کیلئے قرض حاصل کرے گا۔ کرلوسکر کمیٹی اور ایک خانگی کنسلٹنسی کی جانب سے حکومت کو پیش کردہ رپورٹ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ مجوزہ کارپوریشن پراجکٹ کیلئے 900 ایکر اراضی حاصل کرے گا جس پر 5541 کروڑ خرچ کئے جائیں گے ۔ اراضی کے معاوضہ کے طور پر 1060 کروڑ ادا کئے جاسکتے ہیں اور نالوں پر غیر مجاز تعمیرات کے انہدام کے لئے 120 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ یہ کارپوریشن گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے خصوصی شعبہ کے طور پر خدمات انجام دے گا ۔ دیگر محکمہ جات سے بہتر تال میل کے ذریعہ نالوں اور اسٹارم واٹر ڈرین مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ جی ایچ ایم سی کمشنر کے کنٹرول میں یہ کارپوریشن رہے گا۔ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے ماہرین کو کارپوریشن میں شامل کیا جائے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ کارپوریشن کے ذریعہ 3165 کروڑ کی لاگت سے 314 کیلو میٹر اسٹارم واٹر ڈرین کا کام انجام دیا جائے گا ۔ کارپوریشن نے 2017 ء میں شہر اور مضافاتی علاقوں کے نالوں کے تحفظ پر سروے کا کام مکمل کرلیا ہے۔ عہدیداروں نے 390 کیلو میٹر پر محیط 173 بڑے نالوں پر 12182 غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی ہے۔ شہر میں حالیہ بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد حکومت نے نالہ ڈیولپمنٹ پلان کے لئے علحدہ کارپوریشن کے قیام کی مساعی کی ہے۔