بی جے پی کو شدید دھکہ ، ٹی آر ایس کی تائید کے باوجود ناکامی
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے لنگوجی گوڑہ ڈیویژن کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو زبردست جھٹکہ لگا۔ کانگریس امیدوار ڈی راج شیکھر ریڈی نے غیر متوقع طور پر شاندار کامیابی حاصل کرلی جبکہ ٹی آر ایس نے بی جے پی کی تائید میں امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا ۔ گزشتہ سال بلدی انتخابات میں اس حلقہ سے بی جے پی امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن حلف برداری سے قبل ہی ان کا دیہانت ہوگیا جس کے نتیجہ میں ضمنی چناؤ منعقد کیا گیا ۔ بی جے پی نے آنجہانی کارپوریٹر کے فرزند اکھل گوڑ کو ٹکٹ دیا تھا۔ بی جے پی قائدین کی اپیل پر ٹی آر ایس نے اس حلقہ سے مقابلہ نہیں کیا لیکن کانگریس نے اپنا امیدوار کھڑا کیا ۔ ضمنی چناؤ میں جملہ 13629 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 13340 ووٹ درست قرار پائے۔ کانگریس امیدوار ڈی راج شیکھر ریڈی کو 7240 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ بی جے پی امیدوار کو 5968 ووٹ ملے۔ نوٹا کے تحت 101 ووٹ ڈالے گئے جبکہ 188 ووٹوں کو مسترد کردیا گیا ۔ بی جے پی نے اس حلقہ سے دوبارہ کامیابی کے لئے مساعی کی لیکن رائے دہندوں نے کانگریس کے حق میں فیصلہ دیا۔ ٹی آر ایس کے مقابلہ نہ کرنے سے بی جے پی کو یقین تھا کہ وہ اس کا امیدوار کامیاب ہوگا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے کامیاب امیدوار مقامی طور پر عوام میں کافی مقبول ہیں جبکہ بی جے پی نے آنجہانی اے رمیش گوڑ کے فرزند کو ٹکٹ دے کر ہمدردی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ واضح رہے کہ سابق رکن کونسل رام چندر راؤ کی قیادت میں بی جے پی قائدین نے کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے امیدوار کھڑا نہ کرنے کی اپیل کی تھی جس پر کے ٹی آر نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ اس ملاقات پر بی جے پی ہائی کمان نے رام چندر راؤ سے وضاحت طلب کی۔ اسی دوران پردیش کانگریس کے ترجمان جی نرنجن نے لنگوجی گوڑہ ڈیویژن سے پارٹی کے کامیاب امیدوار کو مبارکباد پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی تائید اور بی جے پی ریاستی صدر کے دعوؤں کو رائے دہندوں نے غلط ثابت کردیا ہے۔ کانگریس کو مقامی مسائل کی یکسوئی کا موقع فراہم کیا گیا ۔ نرنجن نے رائے دہندوں سے اظہار تشکر کیا جنہوں نے بی جے پی اور ٹی آر ایس کو یکساں طور پر شکست دی ہے۔