گلبرگہ میں وارث پٹھان کے خلاف پولیس کیس درج

   

غداری کا مقدمہ دائر کرنے بی جے پی لیڈر کا مطالبہ
حیدرآباد ، 22 فروری ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر اور ترجمان وارث پٹھان کے خلاف یہاں حال ہی میں منعقد شہریت ترمیم قانون (سي اے اے ) کے خلاف ریلی کے دوران ہندو کمیونٹی کے خلاف تبصرے کے معاملے میں پولیس نے ایک کیس درج کیا ہے ۔پولیس ذرائع نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ایک خاتون وکیل کی شکایت پر اے آئی ایم آئی ایم لیڈر پٹھان کے خلاف جمعہ کی شام ایف آئی آر درج کی گئی۔ مسٹر پٹھان کے خلاف تعزیرات اخلاق کی دفعہ 117، 153 (فساد کے لئے مشتعل کرنا) اور دفعہ 153 اے (دو گروپوں میں نفرت پھیلانا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کرناٹک کے وزیر داخلہ باسوراج بومئی نے گلبرگہ شہر کے پولیس کمشنر کو واقعہ کے بارے میں رپورٹ سونپنے کی ہدایت دی ہے ۔واضح رہے کہ مسٹر پٹھان نے کرناٹک کے گلبرگہ میں 19 فروری کو جلسہ عام کے دوران متنازعہ بیان میں کہا ‘‘وقت آ گیا ہے کہ ہم متحد ہو جائیں اور آزادی لیں۔ ہم 15 کروڑ ہی 100 کروڑ ہندو آبادی پر بھاری ہیں’’۔ انہوں نے کہا ‘‘ہم نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سیکھ لیا ہے ۔ مگر ہمیں متحد ہوکر چلنا پڑے گا۔ آزادی لینی پڑے گی اور جو چیز مانگنے سے نہیں ملتی ہے ، اس کو چھین لیا جاتا ہے ’’۔مسٹر پٹھان کے اشتعال انگیز بیان پر پارٹی سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کارروائی کرتے ہوئے مسٹر پٹھان کے میڈیا سے بات کرنے پر روک لگا دی ہے ۔ ابھی جب تک پارٹی اجازت نہیں دے گی تب تک مسٹر پٹھان عوامی طور پر بیان نہیں دے سکیں گے ۔دریں اثناء تلنگانہ بی جے پی لیڈر رامچندر راؤ نے وارث پٹھان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھینسہ میں اکبر الدین اویسی نے جس طرح کی زبان استعمال کی تھی اسی لب و لہجہ میں وارث پٹھان نے تقریر کی ہے ۔