گلزار حوض آتشزدگی واقعہ پر تلنگانہ ہائی کورٹ میں سماعت

   

چیف جسٹس نے حکومت سے وضاحت طلب کی
حیدرآباد ۔27 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے گزشتہ سال گلزار حوض کے علاقوں میں پیش آئے آتشزدگی واقعہ سے نمٹنے میں حکام کے تساہل پر حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ اس واقعہ میں 17 افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس غوث میراں محی الدین پر مشتمل بنچ نے ایک شہری کی جانب سے لکھے گئے مکتوب کو مفاد عامہ کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے 18مئی 2025 کو پیش آئے واقعہ میں حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ مقامی شخص سنتوش گپتا نے 26 مئی 2025 کو چیف جسٹس کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ حکومت اور سرکاری محکمہ جات سے وضاحت طلب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے آئندہ سماعت چار ہفتے بعد مقرر کی ہے۔ آتشزدگی کے واقعہ میں سنتوش گپتا کی دختر اور دیگر 16 افراد خاندان کی موت واقع ہوئی تھی۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ آگ پر قابو پانے کیلئے درکار عصری آلات کی کمی ہے اس کے علاوہ حکام نے آگ پر قابو پانے میں تساہل اور غفلت سے کام لیا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کے فوری بعد پولیس ، فائر سرویس اور ایمبولنس ہیلپ لائین نمبرس کو فون کئے گئے لیکن فائر انجن اور ایمبولنس تاخیر سے پہنچی۔ درخواست گزار نے کہا کہ فائر انجن میں عصری آلات نہیں ہے اور آکسیجن ماسک نہیں تھے۔ درخواست گزار نے آتشزدگی کے واقعات نمٹنے میں تساہل پر عدالتی تحقیقات کی درخواست کی۔ مقدمہ کے فریق کے طور پر پرنسپل سکریٹری ہوم، ڈائرکٹر جنرل ، ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ فائر سرویسز ، ڈائرکٹر میڈیکل اینڈ ہیلت اور کمشنر پولیس حیدرآباد کو شامل کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کے سلسلہ میں حکومت اپنے اقدامات کی وضاحت کرے۔1