گلزار حوض کے قریب کالی کمان میں غیر مجاز ڈبوں کا قیام

   


آرکیالوجیکل سروے کی خاموشی ، مقامی افراد کا سخت اعتراض
حیدرآباد ۔7 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) شہر میں تاریخی عمارتوں اور نشانیوں کے تحفظ کے لئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے علاوہ محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے کئی اقدامات کئے گئے ۔ حال ہی میں تاریخی چارمینار کے اطراف موجود تاریخی کمانوں کے تحفظ کے لئے مرمت اور تزئین نو کے کام انجام دیئے گئے ۔ گلزار حوض کے قریب واقع کالی کمان کا تحفظ تو کیا گیا لیکن سیاسی سرپرستی میں اچانک اس تاریخی کمان کے دامن میں غیر مجاز ڈبے قائم کئے گئے ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اس کارروائی پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ حالانکہ تاریخی کمانوں کا تحفظ اس کی ذمہ داری ہے۔ راتوں رات کمان کے اندرونی حصہ میں قبضہ کرتے ہوئے ڈبے لگائے گئے جہاں بہت جلد تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا۔ حکومت نے کمان کا تحفظ اس لئے نہیں کیا کہ وہاں غیر مجاز ڈبے نصب کئے جائیں۔ مقامی افراد کا ماننا ہے کہ سڑک کی توسیع کے سلسلہ میں جو ملگیاں منہدم کی گئیں ، ان کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا اور معاوضہ کی جگہ ملگیاں الاٹ کی گئیں۔ اب جبکہ کالی کمان کے اندرونی حصہ میں غیر قانونی ڈبے قائم کئے گئے ہیں، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہوں گے اور کمان کی خوبصورتی متاثر ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی عوامی نمائندوں کی سرپرستی میں یہ ڈبے لگائے گئے ہیں جن کا بھاری کرایہ وصول کیا جائے گا ۔ کسی بھی تاریخی عمارت میں اس طرح کی سرگرمیوں کی ہرگز اجازت نہیں دی جاتی۔ حکومت اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے حکام کو فوری توجہ دینی چاہئے ۔ر