گمبھی راؤ پیٹ میں ’کے جی تا پی جی‘ پہلے تعلیمی ادارہ کا آج افتتاح

   


کے ٹی آر کی کوششوں سے کے سی آر کا وعدہ شرمندہ تعبیر، وسیع و عریض خوبصورت عمارت میں تمام سہولیات کے ساتھ تعلیم کا انتظام
گمبھی راؤ پیٹ ۔ 13 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت کا غریبوں کو کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کا خواب جلد ہی پورا ہونے والا ہے۔ عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور دیگر سہولتوں کے ساتھ عمارت کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ جہاں ہزارہا طلباء و طالبات کو پہلے ہی تعلیم کے حصول کے لئے ادارہ فراہم کیا گیا ہے۔ البتہ اس کا رسمی طور پر 14 نومبر کو ملانے سے نمائندگی کرنے والے ریاستی وزیر بلدی نظم نسق کے ٹی راما راؤ اور وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کے ہاتھوں افتتاح عمل میں لایا جارہا ہے۔ راجنہ سرسلہ ضلع کے گمبھی راؤ پیٹ منڈل ہیڈکوارٹر میں یہ کیمپس تعمیر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ تحریک کے دوران مسٹر کے چندرا شیکھر راؤ نے ٹی آر ایس صدر کی حیثیت سے ریاست کی تشکیل کے بعد غریب طلبہ کو کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اپنے اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرا شیکھر راؤ نے ریاست بھر میں متعدد رہائشی فلاحی تعلیمی ادارے قائم کئے تھے لیکن تازہ ترین طور پر یہ ادارہ ریاست میں اپنی نوعیت کا پہلا ہے جس کو ایک ہی کیمپس میں تمام جدید سہولتوں کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ جنہوں نے 2021 میں گمبھی راؤ پیٹ میں کے جی تا پی جی کیمپس کے قیام کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا اب اس کو شرمندہ تعبیر کیا ہے جس کا کل یعنی 14 نومبر کو افتتاح عمل میں لایا جائے گا۔ منادورو، منا بڑی پروگرام کے ایک حصہ کے طور پر حکومت نے راہیجہ کارپ فاؤنڈیشن نے اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت ادارہ کی تعمیر عمل میں لائی۔ کیمپس کو کارپوریٹ سہولتوں کے ساتھ 3 کروڑ سے زائد روپیوں کے خرچ کرکے 6 ایکڑ اراضی میں تیار کیا گیا۔ پری پرائمری، پرائمری، ہائی اسکول، انٹرمیڈیٹ، ڈگری اور پی جی سمیت کل 3,500 طلباء تین زبانوں تلگو، انگریزی اور اردو میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اسی کیمپس میں 250 بیٹھنے کی گنجائش والے آنگن واڑی سنٹر کے علاوہ 70 کلاس رومس، جدید ڈیجیٹل لائبریری، سائنس لیاب، روبونگ لیاب، 50 کمپیوٹروں کے ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر، 1000 بیٹھنے کی گنجائش والا ایک ڈائنگ ہال اور دیگر سہولتیں بھی اس کیمپس میں موجود ہیں۔ ڈگری طلبہ کے لئے گرلز ہاسٹل بھی احاطے میں تعمیر کیا گیا ہے۔ 4,500 مربع فٹ کے وسیع و عریض علاقے میں بین الاقوامی معیار کے ساتھ ایک جدید اسپورٹس اسٹیڈیم تیار کیا گیا ہے۔ ایتھلٹک ٹریک کے علاوہ کرکٹ، والی بال، فٹ بال اور باسکٹ بال کورٹس کو FIFS معیارات کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ اس کیمپس کے تعلق سے جب نمائندہ سیاست آصف علی سعادت نے علاقہ کے رہنے والے تلنگانہ اسٹیٹ کوآپریٹیو آپیکس بینک چیرمین کونڈوری راویندر راؤ سے بات چیت کی تو انہوں نے بتلایا دیہی طلبہ کو اسی احاطے میں معیاری اور اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لئے چیف منسٹر نے کی جی تاپی جی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گمبھی راؤ پیٹ میں وزیر مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کیمپس کے قیام کے لئے خصوصی پہل کی۔ دیہی علاقوں میں ایس ایس سی کے بعد طلبہ خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کو روکنا ایک عام رواج تھا لیکن فی الحال، تلنگانہ حکومت کے ذریعہ رہائشی اسکول کو انٹرمیڈیٹ تک اپ گریڈ کرنے کے بعد لڑکیاں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہیں۔ رویندر راؤ نے یہ بات کہی اور کہا کہ کے جی سے پی جی تک ادارہ دیہی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کا موقع فراہم کرے گا اور پڑوسی اضلاع جیسے کاماریڈی اور سدی پیٹ کے طلبہ بھی اس ادارہ سے مستفید ہوں گے۔