گنجان آبادیاں وبائی امراض کے پھیلاؤ کی اہم وجہ، بلدی توجہ درکار

   

ہر بڑے شہر کے پرانے علاقوں کے یکساں مسائل۔ عوام میں شعور اُجاگر کرنا وقت کی ضرورت
حیدرآباد۔20مئی (سیاست نیوز) ملک کے ہر اہم شہر کے ساتھ ایک پرانا شہر موجود ہے اور ان پرانے شہر کے علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیلتے ہیں ۔2009میں سوائن فلو کے اعداد و شمار کے علاوہ سوائن فلو کے مریضوں کی رہائش کے مقامات کا وزار ت خاندانی بہبود و صحت کی جانب سے جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جارہا ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے کئے جانے والے اس اقدام کا مقصد وبائی امراض کے متاثرین کی رہائش اور ان علاقوں کا جائزہ لینا ہے جہاں وباء سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے حاصل کی جانے والی تفصیلات کے سلسلہ میں ہوئے انکشاف کے متعلق کہا جارہا ہے کہ ملک کے ہر سرکردہ شہر کے پرانے شہر میں وبائی امراض کے متاثرین کی تعداد زیادہ پائی جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ ان علاقوں میں پائی جانے والی گنجان آبادی ہے اوران آبادیوں میں لوگوں کو کھیلنے اور کھلے ماحول میں سانس لینے اور فضائی آلودگی سے محفوظ رہنے کیلئے درخت نہ ہونے کے سبب بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ سال 2009 میں سوائن فلو کی وباء کا شکار ہونے والے افراد کی نشاندہی کے دوران اس بات کو نوٹ کیا گیا تھا کہ ان علاقوں میں کھلی جگہ موجود نہ ہو اور گنجان آبادیاں رہنے کے سبب ان علاقو ںمیں وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگتے ہیں اور ان امراض کی روک تھام کے لئے قرنطینہ لازمی ہے۔ جہاں گنجان آبادی ہو وہاں قرنطینہ کے امکانات بھی کم ہوا کرتے ہیں اسی لئے پرانے شہر کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔شہر حیدرآباد میں بھی یہی صورتحال پائی جا رہی ہے

اور پرانے شہر کے علاقہ میں رہنے والے عوام اس وباء سے زیادہ متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور ان کے متعلق کہا جارہا ہے کہ ان علاقو ںمیں بے احتیاطی کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے جبکہ قومی سطح پر پرانے شہر بالخصوص تاریخی شہر جہاں کی آبادیاں نئے شہروں سے کافی زیادہ ہوتی ہیں ان آبادیوں کو صاف و شفاف ماحول کے علاوہ انہیں جراثیم سے پاک کیا جانا ناگزیر ہے۔پرانے شہر کے علاقو ںمیں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کو باشعور بناتے ہوئے وبائی امراض کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے اور پر ہجوم علاقو ںمیں عوام کو جانے سے روکتے ہوئے انہیں بیماری سے بچایا جاسکتا ہے۔کورونا وائرس کے متعلق بھی مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ گنجان آبادی والے علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور اس اضافہ سے نمٹنے کے لئے لازمی ہے کہ ہر شخص اپنے طور پر صفائی کے انتظامات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ گھریلو اشیاء اور گھر کے آس پاس کی صفائی کو بھی یقینی بنانے کی مہم شروع کرے اور بلدیات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گنجان آبادی والے علاقو ںمیں جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں کیونکہ اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ پر ہجوم علاقو ں میں ہی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اسی لئے بلدی عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ پرانے شہر کی گنجان آبادیوں میں ادویات کے چھڑکاؤ کو یقینی بنانے کا عمل شروع کریں اور عوام میں شعور اجاگر کریں۔