مصنوعی طریقہ تولید سے ماں بننے کا 50 سالہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا ‘ ورلڈ ریکارڈ متوقع
امراوتی ( اے پی ) 5 ستمبر ( پی ٹی آئی ) ماں بننے کیلئے تقریبا پانچ دہوں کی جدوجہد کے بعد ایک 74 سالہ خاتون نے آندھرا پردیش میں بالآخر اپنے خواب کو پورا کیا اور اس نے جڑواں بچوں کو جنم دیا ۔ ڈاکٹرس کا احساس ہے کہ یہ ایک نیا ورلڈ ریکارڈ ہوسکتا ہے ۔ سابق میں ایک 66 سالہ اسپینی خاتون کے نام ریکارڈ درج تھا جس نے 66 سال عمر میں بچہ کو جنم دیا تھا ۔ گنیز ورلڈ ریکارڈ میں یہ کارنامہ درج تھا ۔ کہا گیا کہ آندھرا پردیش مشرقی گوداوری ضلع کے درکشارامم کی رہنے والی ای منگیاما نے آئی وی ایف طریقہ اختیار کرکے گنٹور کے ایک خانگی دواخانہ میں دو لڑکیوں کو جنم دیا ۔ ماں اور دونوں نومولد لڑکیاںمحفوظ ہیں اور مستحکم ہیں۔ ماہر امراض خواتین ڈاکٹر ایس ارونا نے یہ بات بتائی ۔ ان کی نگرانی میں ہی یہ زچگی ہوئی تھی ۔ منگیاما کی شادی 1962 میں ای راجا راو سے ہوئی تھی اور وہ اتنے برس سے لاولد تھی ۔ حال ہی میں ان کے ایک پڑوسی نے مصنوعی طریقہ سے حمل اختیار کیا اور بچے کو جنم دیا تھا ۔ پڑوسی کی عمر 55 سال بتائی گئی ۔ اس کو دیکھتے ہوئے منگیاما نے یہی طریقہ کار اختیار کیا اور اس نے 74 سال کی عمر میں بچہ کو جنم دیا ۔ اس نے ڈاکٹر ارونا سے رابطہ کیا جنہوں نے پہلے چندرا بابو نائیڈو کابینہ میں 1999 سے 2004 کے درمیان چندرا بابو نائیڈو کابینہ میں وزیر صحت کی حیثیت سے کام کیا تھا ۔ منگیاما نے آئی وی ایف طریقہ کار اختیار کیا اور جاریہ سال جنوری میں وہ حاملہ ہوئی تھیں۔ ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے مانگیاما کو اتنا تمام عرصہ خانگی دوخانہ ہی میں ڈاکٹرس کی نگرانی میں رکھاگیا تھا ۔ ڈاکٹر ارونا نے کہا کہ اتنے مہینوں تک وہ صحتیاب رہیں۔ انہیں کوئی شوگر یا بی پی لاحق نہیں ہے ۔ چونکہ ان کی عمر 74 سال ہے اس لئے آپریشن کے ذریعہ زچگی کرنی پڑی ہے ۔
