صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے ریونیو ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت دی
حیدرآباد ۔ 19 ۔ نومبر (سیاست نیوز) شنکر پلی گنڈی پیٹ روڈ پر واقع مسجد قطب شاہی ابراہیم باغ کی اراضی کو غیر قانونی طریقہ سے بلڈر کو فروخت کئے جانے کی شکایت پر صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے عہدیداروں کی ٹیم کو روانہ کیا ۔ وقف انسپکٹرس اور سرویئرس پر مشتمل عہدیداروں نے مسجد قطب شاہی اور متصل اراضی کا معائنہ کیا ۔ انہوں نے مسجد کے عقبی حصہ میں خانگی وینچر کے ذمہ داروں سے ملاقات کی اور اراضی کے ریکارڈ کا مشاہدہ کیا ۔ عہدیداروں نے صدرنشین وقف بورڈ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسجد کے تحت موجود تقریباً 11 ایکر اراضی فی الوقت محفوظ ہے اور یہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ہے۔ مسجد اور اراضی پر آرکیالوجیکل سروے کا کنٹرول ہے اور فی الوقت یہ مسجد غیر آباد ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ریونیو ریکارڈ کا جائزہ لیں تاکہ مسجد کی اراضی اور سروے نمبر کا پتہ چل سکے۔ انہوں نے غیر قانونی فروخت کو روکنے کیلئے رجسٹرار آفس سے رجوع ہونے کی ہدایت دی ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ اس مسئلہ پر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے عہدیداروں سے بات چیت کی جائے گی تاکہ مسجد کی تزئین نو اور آباد کرنے کیلئے وقف بورڈ کی جانب سے اقدامات کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ مساجد اور اس کی اراضیات کے تحفظ کا پابند ہے۔ ریونیو ریکارڈ میں مسجد اور اراضی کے موجودہ موقف کا جائزہ لینے کے بعد ہی آرکیالوجیکل سروے کے عہدیداروں کو طلب کیا جائے گا۔