گورنر کوٹہ کی ایم ایل سی نشستوں پر عجلت میں فیصلہ کیلئے گورنر شیو پرتاپ شکلا تیار نہیں

   

سپریم کورٹ کی قطعی سماعت تک انتظار ، اظہرالدین کی کابینہ میں برقراری کیلئے متبادل حکمت عملی
حیدرآباد ۔27 ۔ مارچ (سیاست نیوز) گورنر کوٹہ کی دو ایم ایل سی نشستوں پر حکومت کی جانب سے سفارش کردہ ناموں کی منظوری حاصل کرنے ریونت ریڈی حکومت کی مساعی کو اس وقت دھکہ لگا جب گورنر شیو پرتاپ شکلا نے سپریم کورٹ کے قطعی احکامات تک انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے گورنر سے درخواست کی گئی کہ وہ سپریم کورٹ کے عبوری احکامات کی روشنی میں حکومت کی جانب سے سفارش کردہ پروفیسر کودنڈا رام اور اظہرالدین کے ناموں کو منظوری دیں۔ ذرائع کے مطابق گورنر شیو پرتاپ شکلا نے اپنے سکریٹری اور دیگر عہدیداروں سے تنازعہ کی تفصیلات حاصل کیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر دوران ہونے کے سبب سابق گورنر جشنو دیو ورما نے فائل پر دستخط کرنے سے گریز کیا تھا۔ عہدیداروں نے گورنر کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے گورنر کو اختیار دیا ہے کہ وہ حکومت کے سفارش کردہ ناموں کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔ سابق گورنر جشنو دیو ورما نے قانون اور دستور کے ماہرین سے مشاورت کے بعد عدالت کے قطعی احکامات تک انتظار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گورنر کی تبدیلی کے بعد ریونت ریڈی حکومت کی جانب سے اس بات کی کوشش کی گئی کہ کونسل کیلئے سفارش کردہ دونوں ناموں کی منظوری حاصل کی جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر گورنر سے ملاقات کا ارادہ بھی ظاہر کیا لیکن گورنر کے قانونی موقف کے باعث ملاقات کو ٹال دیا گیا۔ موجودہ گورنر نے سپریم کورٹ میں زیر دوران مقدمہ کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ 22 اپریل کو سپریم کورٹ میں قطعی سماعت تک وہ کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ گورنر کا موقف ہے کہ عبوری احکامات کی آڑ میں ناموں کی منظوری سے آئندہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق گورنر کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں مسئلہ کے قطعی حل کے بعد ہی وہ حکومت کے سفارش کردہ ناموں کے بارے میں کوئی موقف اختیار کریں گے۔ دوسری طرف تلنگانہ حکومت کو کابینہ میں وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین کی برقراری کی فکر لاحق ہوچکی ہے۔ اسمبلی اور کونسل کی رکنیت کے بغیر جوبلی ہلز کے ضمنی چناؤ سے عین قبل اظہرالدین کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ دستوری اعتبار سے اندرون 6 ماہ اظہرالدین کو کسی ایک ایوان کا رکن منتخب ہونا ضروری ہے۔ اپریل میں اظہرالدین کی وزارت کے 6 ماہ مکمل ہوجائیں گے ، لہذا حکومت چاہتی ہے کہ گورنر سے ناموں کی منظوری حاصل کی جائے ۔ راج بھون کے ذرائع کے مطابق محمد اظہرالدین نے بھی گورنر سے ملاقات کے لئے وقت مانگا لیکن گورنر کی جانب سے ابھی تک وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر سپریم کورٹ میں 22 اپریل کو قطعی سماعت تک کوئی بھی فیصلہ نہ کرنے کے وقف پر قائم ہیں۔ موجودہ گورنر شیو پرتاپ شکلا تقریباً 40 سال تک سیاسی زندگی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ، لہذا وہ متنازعہ مسائل پر عجلت میں فیصلہ کے حق میں نہیں ہیں۔ گورنر کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے متبادل حکمت عملی تیار کی جارہی ہے جس کے تحت اپریل کے پہلے یا دوسرے ہفتہ میں اظہرالدین کابینہ سے مستعفی ہوجائیں گے اور کچھ دن بعد انہیں دوبارہ حلف دلایا جائے گا جس کے ذریعہ وہ مزید 6 ماہ تک کابینہ میں برقرار رہ سکتے ہیں۔ ایم ایل اے کوٹہ کے تحت کونسل کی 3 نشستیں نومبر میں خالی ہورہی ہیں جن کیلئے اکتوبر میں الیکشن کا امکان ہے۔ تین نشستوں میں اظہرالدین کو منتخب کرتے ہوئے کابینہ میں ان کی برقراری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔1