گورکھا عوام کی شہریت کیلئے آواز بلند ہو رہی ہے ‘ مسلمانوں کیلئے خاموشی

   

گورکھا عوام کو شہریت دینے بی جے پی ایم پی کا مطالبہ، 28 مسلم ارکان پارلیمنٹ میں کسی نے زبان نہیں کھولی

حیدرآباد 30 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) انتخابات میں جب امیدوار اپنے رائے دہندوں سے ووٹ مانگتے ہیں تو انہیں تیقن دیا جاتا ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ اور انہیں انصاف دلانے کیلئے پارلیمنٹ اور اسمبلی میں ان کا جانا ضروری ہے تاہم جب یہ لوگ منتخب ہوجاتے ہیں تو پھر کوئی ملک بھر کی سیر میں مصروف ہوجاتا ہے تو کوئی بیرون ملک چھٹیاں منانے نکل جاتا ہے ۔ ان عوامی نمائندوں کو عوام سے کئے گئے وعدوں کے علاوہ خود اپنی قوم کے مفادات کی بھی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی ۔ ان عوامی نمائندوں میں کچھ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو اپنے عوام کی فکر کرتے ہیں اور ان کے تعلق سے ایوان میں آواز ضرور اٹھاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راجو بستا کی ہے جنہوں نے گورکھا برادری کے ارکان کو این آر سی سے خارج کرنے کا مسئلہ لوک سبھا میں اٹھایا اور حکومت سے کہا کہ وہ جن گورکھا شہریوں کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہیں انہیں شہریت دی جائے ۔ ان کا دعوی تھا کہ گورکھا برادری نے قوم کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ راج بستا حالانکہ بی جے پی کے ہی رکن ہیں لیکن انہوں نے اپنی ہی حکومت کی این آر سی کے تعلق سے پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپنے عوام کیلئے آواز اٹھائی ۔ آج سارے ہندوستان میں مسلمانوں پر این آر سی کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ خود آسام کی این آر سی میں لاکھوں مسلمانوں کو شہرت سے محروم کردیا گیا ہے ۔ ان کے نام این آر سی میں شامل نہیں کئے گئے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پارلیمنٹ میں یا اسمبلیوں میں کسی مسلم نمائندے کی جانب سے مسلمانوں کو این آر سی میں شامل کرنے اور ان کی شہریت کو بحال کرنے کیلئے کوئی نمائندگی نہیں کی گئی ہے ۔ آسام میں مسلمانوں کو شہریت دلانے کیلئے آواز اٹھانے کسی نمائندے نے زحمت گوارا نہیں کی لیکن بیان بازیوں میں ضرور ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں یا ان کے مسائل کے تعلق سے سنجیدہ نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے ہی ایجنڈہ اور مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرداں رہتے ہیں۔ اب جبکہ سارے ملک میں این آر سی کی تلوار لٹکنے والی ہے تو کم از کم اب مسلم نمائندوں کو اور خاص طور پر مذہب کی دہائی دے کر ووٹ حاصل کرنے والوں کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر آسام کے مسلمانوں کو شہریت دلانے کیلئے آواز بلند کی جاتی ہے تو مستقبل میں قومی سطح پر این آر سی کے نفاذ کے وقت بھی جدوجہد کیلئے بنیاد فراہم ہوسکتی ہے ۔ محض بیان بازیوں پر اکتفاء کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں اس تعلق سے سنجیدہ کوشش بہت ضروری ہے جس سے اب تک مسلم نمائندے غفلت برت رہے ہیں۔ انہیں اب خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔ پارلیمنٹ میں جملہ 28 مسلم اراکین پارلیمنٹ ہیں لیکن کسی نے بھی مسلمانوں کو شہریت دینے اور ان سے انصاف کرنے کیلئے آواز بلند نہیں کی ہے ۔